معصوم شرقی کے تمام مواد

11 غزل (Ghazal)

    منزلیں کیا بتائیں میں کیا ہوں

    منزلیں کیا بتائیں میں کیا ہوں زندگی کا اداس رستہ ہوں تو خروش تلاطم دریا میں سکوت سراب صحرا ہوں کام آئی نہ کچھ شناسائی شہر کی بھیڑ میں اکیلا ہوں میں تری جستجو کے صحرا میں رقص کرتا ہوا بگولہ ہوں خار و خس ہی سہی مگر یارو میں بھی صحن‌ چمن کا حصہ ہوں چشم عبرت سے دیکھیے مجھ ...

    مزید پڑھیے

    اس آتش خموش کو شعلہ بنا نہ دے

    اس آتش خموش کو شعلہ بنا نہ دے چنگاریوں کے ڈھیر کو کوئی ہوا نہ دے مشکل سے کچھ ہوا ہے میسر مجھے سکوں ماضی کا کوئی درد مجھے پھر جگا نہ دے گھر پھونکنے سے پہلے مرا تو یہ سوچ لے شعلہ کہیں یہ تیرے بھی گھر کو جلا نہ دے طوفاں نفس نفس ہے قیامت قدم قدم جب زندگی یہی ہے تو اس کی دعا نہ دے اک ...

    مزید پڑھیے

    میں نے تجھ کو کھویا تھا میں نے تجھ کو پایا ہے

    میں نے تجھ کو کھویا تھا میں نے تجھ کو پایا ہے وہ بھی ایک دھوکہ تھا یہ بھی ایک دھوکہ ہے بیٹھے شیش محلوں میں تم سمجھ نہ پاؤ گے خار کیسے پاؤں میں درد بن کے چبھتا ہے دور ہو نگاہوں سے پاس ہو رگ جاں کے دل کا دل سے رشتہ ہے اس میں معجزہ کیا ہے اصل زندگی ہے کیا کیا کھلے کہ تم نے تو سانس کی ...

    مزید پڑھیے

    شب سیاہ کا آنچل سرک چکا ہے بہت

    شب سیاہ کا آنچل سرک چکا ہے بہت اندھیری رات میں جگنو چمک چکا ہے بہت رئیس شہر مرا اور امتحان نہ لے کہ میرے صبر کا ساغر چھلک چکا ہے بہت نہ کام آئے گی اب شمع دل کی تابانی تعلقات کا شعلہ بھڑک چکا ہے بہت چلے بھی آؤ کہ مل کر منائیں جشن بہار ہمارے شوق کا غنچہ چٹک چکا ہے بہت تمہارے رشتے ...

    مزید پڑھیے

    تجھ سے ملے بغیر یہ مجھ کو پتا نہ تھا

    تجھ سے ملے بغیر یہ مجھ کو پتا نہ تھا وصل و فراق کیا ہے یہ میں جانتا نہ تھا آزاد ہو گیا میں جہاں کے خیال سے لیکن ترا خیال مجھے چھوڑتا نہ تھا میں اس کو دیکھتا تھا بڑے اشتیاق سے لیکن کبھی وہ میری طرف دیکھتا نہ تھا تم کیا خفا ہوئے کہ خفا ہو گیا جہاں جب تم خفا نہ تھے تو کوئی بھی خفا نہ ...

    مزید پڑھیے

تمام