میرے شکوے کا ذرا اس پہ اثر ہو تو سہی

میرے شکوے کا ذرا اس پہ اثر ہو تو سہی
مہرباں مجھ پہ کبھی اس کی نظر ہو تو سہی


دیکھنے والے مرا عزم سفر دیکھیں گے
منزل شوق کوئی پیش نظر ہو تو سہی


جلوے قدرت کے تو بکھرے ہوئے کونین میں ہیں
دیکھنے والا کوئی اہل نظر ہو تو سہی


میں مسرت بھرے لمحوں کا کروں استقبال
مرے حصے میں حسیں شام و سحر ہو تو سہی


مسکرانے کی تمنا تو مجھے ہے لیکن
کوئی لمحہ غم دوراں سے مفر ہو تو سہی


ہیچ ہر چیز زمانے کی نظر آئے گی
تجھ کو خود اپنی حقیقت کی خبر ہو تو سہی


میں بھی معصومؔ سمجھ لوں گا ہے دنیا جنت
عیش و آرام سے کچھ روز بسر ہو تو سہی