تجھ سے ملے بغیر یہ مجھ کو پتا نہ تھا

تجھ سے ملے بغیر یہ مجھ کو پتا نہ تھا
وصل و فراق کیا ہے یہ میں جانتا نہ تھا


آزاد ہو گیا میں جہاں کے خیال سے
لیکن ترا خیال مجھے چھوڑتا نہ تھا


میں اس کو دیکھتا تھا بڑے اشتیاق سے
لیکن کبھی وہ میری طرف دیکھتا نہ تھا


تم کیا خفا ہوئے کہ خفا ہو گیا جہاں
جب تم خفا نہ تھے تو کوئی بھی خفا نہ تھا


اک تیری یاد ہی تھی مری منزل طلب
ورنہ سفر میں کوئی مرا رہنما نہ تھا


محرومیاں لکھی تھیں ہمارے نصیب میں
دل پر ہمارے حرف مسرت لکھا نہ تھا


معصومؔ یہ بھی اپنے مقدر کی بات ہے
ان کا ملا سراغ تو اپنا پتا نہ تھا