اپنی کتاب عمر کا انجام لکھ دیا

اپنی کتاب عمر کا انجام لکھ دیا
پہلے ورق پہ میں نے ترا نام لکھ دیا


میں لکھنا چاہتا تھا کوئی پھول سی غزل
اور جب لکھا تو صرف ترا نام لکھ دیا


دل نے ترے سوا نہ کوئی بات کی قبول
سب کچھ بنام گردش ایام لکھ دیا


رسوائیوں کے موڑ پہ تنہا کھڑا ہوں میں
اپنا گناہ سب نے مرے نام لکھ دیا


ہم ایسے بے گھروں نے جہاں بھی کیا قیام
خط کھینچ کے وہیں پہ در و بام لکھ دیا


معصومؔ مجھ کو اس نے کیا آئنہ مزاج
لیکن مرے نصیب میں الزام لکھ دیا