زندگی ہی زندگی چاروں طرف ہے
زندگی ہی زندگی چاروں طرف ہے
آنکھ ہو تو روشنی چاروں طرف ہے
کیا زمیں کیا آسماں کیا دشت و دریا
آدمی کی برتری چاروں طرف ہے
ایک مرکز پر ٹھہرتا ہی نہیں ہے
ذہن کی آوارگی چاروں طرف ہے
دیکھیے تو ہے اجالا ہی اجالا
سوچئے تو تیرگی چاروں طرف ہے
آنکھ سے اوجھل ترا چہرہ ہے لیکن
اک علامت سی تری چاروں طرف ہے
کچھ نہ کچھ ہے آج کل میں ہونے والا
اک مکمل خامشی چاروں طرف ہے
چھوڑ کر جاتے ہو گھر معصومؔ صاحب
سوچ لو دنیا یہی چاروں طرف ہے