چہرے سے زندگی کی چمک ختم ہو گئی

چہرے سے زندگی کی چمک ختم ہو گئی
اتنا ہنسے کہ ساری للک ختم ہو گئی


ہر راستہ کہیں نہ کہیں جاتا ہے مگر
چلتا گیا میں اور سڑک ختم ہو گئی


مجھ سے چھڑا کے ہاتھ بہت خوش ہے وہ مگر
خوش رنگ چوڑیوں کی کھنک ختم ہو گئی


کس سنگ دل خیال نے سہما کے رکھ دیا
یک لخت آئنے کی چمک ختم ہو گئی


پھولوں کی دل کشی میں اضافہ ہوا تو ہے
لیکن یہ کیا ہوا کہ مہک ختم ہو گئی


شاخ گلاب لگتی ہے ڈالی ببول کی
موسم کے ساتھ ساری لچک ختم ہو گئی


آج اس کا میں نے آخری خط بھی جلا دیا
معصومؔ عمر بھر کی کسک ختم ہو گئی