بوئے گل چاہتے ہیں رقص صبا چاہتے ہیں
بوئے گل چاہتے ہیں رقص صبا چاہتے ہیں
بند کمروں کے مکیں تازہ ہوا چاہتے ہیں
مفلسی ہوش اڑا دیتی ہے انسانوں کے
یہ نشہ کم ہو تو دولت کا نشہ چاہتے ہیں
کب کہا ہم نے کسی زہرہ جبیں کی ہے تلاش
جو ہمیں ڈھونڈ سکے اس کا پتا چاہتے ہیں
یہ بھی منظور نہیں چاند کے باشندوں کو
ہم گھنی رات میں مٹی کا دیا چاہتے ہیں
ہم سے ناراض ہیں سورج کی شعاعیں تو رہیں
ہم تو بس روشنیٔ غار حرا چاہتے ہیں
سب کو ملتا ہے یہ انداز فقیرانہ کہاں
ہم پریشاں ہیں مگر سب کا بھلا چاہتے ہیں
جن کا سر دیکھ کے کاسے کا گماں ہو معصومؔ
وہ بھی اس دور میں دستار انا چاہتے ہیں