Masooda Hayat

مسعودہ حیات

مسعودہ حیات کی نظم

    بچوں کی عید

    عید بہت ہی دھوم سے آئی بازاروں میں رونق لائی پہن کے اچھے اچھے کپڑے بچے اپنے گھر سے نکلے کپڑے گوٹے اور پھٹے کے جھلمل کرتے جھم جھم کرتے عید ملن کو پہنچے گھر گھر کتنے خوش تھے باہم مل کر پھینی اور مٹھائی کھائی میٹھی میٹھی عید منائی ملے انہیں عیدی کے پیسے کھیل کھلونے خوب خریدے جا کر ...

    مزید پڑھیے

    چھبیس جنوری

    ہر سال جگمگاتی ہے چھبیس جنوری ہر سمت مسکراتی ہے چھبیس جنوری سب کے دلوں کو بھاتی ہے چھبیس جنوری شان وطن دکھاتی ہے چھبیس جنوری جنتا کا دل بڑھاتی ہے چھبیس جنوری ہیں بام و در پہ آج ترنگے لگے ہوئے پھولوں سے چار سمت ہیں رستے سجے ہوئے ہر سو عمارتوں پہ ہیں دیپک جلے ہوئے شان وطن دکھاتی ہے ...

    مزید پڑھیے

    پندرہ اگست

    اہنسا کی شمشیر چمکی اسی دن غلامی کی زنجیر ٹوٹی اسی دن گلستاں کی تقدیر بدلی اسی دن اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں کھلے کیسے کیسے بھرم دشمنوں کے رہے پھر نہ باقی ستم دشمنوں کے مٹے اس زمیں سے قدم دشمنوں کے اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں چلو اپنی دھرتی کو ...

    مزید پڑھیے

    جشن آزادی

    جشن آزادیٔ جمہور منائیں لوگو گوشے گوشے میں مساوات کا چرچا کر دیں کوئی بھوکا نہ رہے کوئی بھی ننگا نہ رہے آج ہر فرد کی انعام سے جھولی بھر دیں اپنے کردار کو اس طرح نکھاریں ہم لوگ دشمن جاں بھی نگاہیں نہ اٹھانے پائے امن کے پھول سے راہوں کو سجا دیں اتنا زخم کانٹوں کا کوئی پاؤں نہ کھانے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2