اب چمن زار ہی اپنا ہے نہ صحرا اپنا
اب چمن زار ہی اپنا ہے نہ صحرا اپنا کل ہر اک شاخ پہ ممکن تھا بسیرا اپنا بام و در تک نہ رہے گھر کے تو گھر کیا اپنا اب فلک بھی نہ ہٹا لے کہیں سایا اپنا عمر بھر جس نے زمانے کی مسیحائی کی بن سکا اپنے ہی غم میں نہ مسیحا اپنا کس کے گھر جاؤں کسے آج میں اپنا سمجھوں اپنے گھر ہی میں نہیں کوئی ...