Masooda Hayat

مسعودہ حیات

مسعودہ حیات کے تمام مواد

15 غزل (Ghazal)

    اب چمن زار ہی اپنا ہے نہ صحرا اپنا

    اب چمن زار ہی اپنا ہے نہ صحرا اپنا کل ہر اک شاخ پہ ممکن تھا بسیرا اپنا بام و در تک نہ رہے گھر کے تو گھر کیا اپنا اب فلک بھی نہ ہٹا لے کہیں سایا اپنا عمر بھر جس نے زمانے کی مسیحائی کی بن سکا اپنے ہی غم میں نہ مسیحا اپنا کس کے گھر جاؤں کسے آج میں اپنا سمجھوں اپنے گھر ہی میں نہیں کوئی ...

    مزید پڑھیے

    تیری یادوں نے کبھی چین سے جینے نہ دیا

    تیری یادوں نے کبھی چین سے جینے نہ دیا میں نے چاہا تو مجھے زہر بھی پینے نہ دیا یوں ہی بن بن کے بگڑتے رہے آئین وفا بے سہاروں کو سہارا تو کسی نے نہ دیا غم تو غم جوش مسرت نے بڑھایا وہ جنوں چاک داماں کسی عنوان بھی سینے نہ دیا زندگی غم سے سنورتی ہے یہ مانا لیکن منزل غم میں سہارا تو کسی ...

    مزید پڑھیے

    کوئی تو دل کی نگاہوں سے دیکھتا جائے

    کوئی تو دل کی نگاہوں سے دیکھتا جائے ہماری روح کے کچھ غم سمیٹتا جائے تمہارے ملنے کی ہر آس آج ٹوٹ گئی تمہیں بتاؤ کہ اب کس طرح جیا جائے ذرا تو سوچیے اس دل کا حال کیا ہوگا تلاش گل میں جو پتھر کی چوٹ کھا جائے سجا کے تم کو گلوں سے اٹھائے ہیں پتھر زمانہ کتنا ستم گر ہے کیا کیا جائے کریں ...

    مزید پڑھیے

    دل و نگاہ میں اک روشنی سی لگتی ہے

    دل و نگاہ میں اک روشنی سی لگتی ہے تمہاری یاد سے وابستگی سی لگتی ہے یہ کیا ستم ہے مہکتی ہوئی بہاروں میں ہر ایک چہرے پہ پژمردگی سی لگتی ہے یہ کس کے ہاتھ میں آیا ہے دور پیمانہ لبوں پہ اپنے بڑی تشنگی سی لگتی ہے ہم اپنے گھر میں بھی ہیں اب مسافروں کی طرح ہر ایک چیز یہاں اجنبی سی لگتی ...

    مزید پڑھیے

    یہ جو رنگین تبسم کی ادا ہے مجھ میں

    یہ جو رنگین تبسم کی ادا ہے مجھ میں مجھ کو لگتا ہے کوئی میرے سوا ہے مجھ میں خود بھی حیراں ہوں ازل سے کہ یہ کیا ہے مجھ میں کون شہ رگ سے مری بول رہا ہے مجھ میں عمر بھر جس کو ترے غم کی امانت سمجھا اب وہی تار نفس ٹوٹ گیا ہے مجھ میں ایک خوشبو سی ابھرتی ہے نفس سے میرے ہو نہ ہو آج کوئی آن ...

    مزید پڑھیے

تمام

14 نظم (Nazm)

    دیوالی

    آئی دوالی آئی دوالی گیت خوشی کے گاؤ اندھیارے کو دور کرو تم گھر گھر دیپ جلاؤ سیتا رام کی راہوں کو اب پھولوں سے مہکاؤ چودہ برس میں لوٹے گھر کو لچھمن سیتا رام آج ہر اک نر ناری کے لب پر ہے انہیں کا نام بازاروں میں لگا ہوا ہے دیوالی کا میلہ کوئی خریدے برتن بھانڈے کوئی شال دوشالا کوئی ...

    مزید پڑھیے

    جواہر لال نہرو

    نہرو تجھ پر ناز کرے گا صدیوں ہندوستان شاید پیدا ہو نہ سکے گا پھر ایسا انسان ملا ہے تیرے روپ میں ہم کو ایک بڑا وردان بھائی چارہ میل محبت ہے تیری پہچان اسی لیے تو کرتی ہے دنیا تیرا سمان عیش و عشرت کی دنیا کو تو نے یکسر چھوڑا جنگ آزادی میں طوفانوں کا منہ بھی موڑا عزم و ہمت سے دشمن کی ...

    مزید پڑھیے

    بھارت کا نشان

    آؤ منائیں ہم سب مل کر اب جشن آزادی دیس کا جھنڈا اونچا رکھیں ہاتھ بنیں فولادی پورب میں پھر لہرا اٹھا امن و اماں کا پرچم برگ گل پر ناچ رہی ہے موتی جیسی شبنم ندیوں نے پھر چھیڑ دیا ہے آزادی کا سرگم آؤ منائیں ہم سب مل کر اب جشن آزادی دیس کا جھنڈا اونچا رکھیں ہاتھ بنیں فولادی آزادی کی ...

    مزید پڑھیے

    ہم ہند کے شیدائی

    اس دیس کی وادی میں ہر پھول مہکتا ہے ہر قوم کے رہبر کا کردار لہکتا ہے اپنا ہو کہ بیگانہ بلبل سا چہکتا ہے ہر مذہب و ملت نے بھارت میں اماں پائی ہم ہند کے رکھوالے ہم ہند کے شیدائی اک امن و محبت کی تفسیر ہے یہ گلشن ایثار و اخوت کی تصویر ہے یہ گلشن تعمیر و ترقی کی تنویر ہے یہ گلشن ہر گوشۂ ...

    مزید پڑھیے

    ہولی

    گلی گلی بازار میں ہو گئی رنگوں کی بوچھار آنچل بھیگے تن من بھیگا گال ہوئے گلنار کتنی امنگیں لے کر آیا ہولی کا تیوہار آیا ہولی کا تیوہار لے کے رنگوں کی بہار منظر ہوئے رنگیلے رنگوں سے غبارے بھر کر بچے چڑھے اٹاری سبزہ سبزہ رنگ میں ڈوبا بھیگی ڈاری ڈاری کوئی نہ بچنے پایا ان سے پنڈت ہو ...

    مزید پڑھیے

تمام