Masooda Hayat

مسعودہ حیات

مسعودہ حیات کی غزل

    اب چمن زار ہی اپنا ہے نہ صحرا اپنا

    اب چمن زار ہی اپنا ہے نہ صحرا اپنا کل ہر اک شاخ پہ ممکن تھا بسیرا اپنا بام و در تک نہ رہے گھر کے تو گھر کیا اپنا اب فلک بھی نہ ہٹا لے کہیں سایا اپنا عمر بھر جس نے زمانے کی مسیحائی کی بن سکا اپنے ہی غم میں نہ مسیحا اپنا کس کے گھر جاؤں کسے آج میں اپنا سمجھوں اپنے گھر ہی میں نہیں کوئی ...

    مزید پڑھیے

    تیری یادوں نے کبھی چین سے جینے نہ دیا

    تیری یادوں نے کبھی چین سے جینے نہ دیا میں نے چاہا تو مجھے زہر بھی پینے نہ دیا یوں ہی بن بن کے بگڑتے رہے آئین وفا بے سہاروں کو سہارا تو کسی نے نہ دیا غم تو غم جوش مسرت نے بڑھایا وہ جنوں چاک داماں کسی عنوان بھی سینے نہ دیا زندگی غم سے سنورتی ہے یہ مانا لیکن منزل غم میں سہارا تو کسی ...

    مزید پڑھیے

    کوئی تو دل کی نگاہوں سے دیکھتا جائے

    کوئی تو دل کی نگاہوں سے دیکھتا جائے ہماری روح کے کچھ غم سمیٹتا جائے تمہارے ملنے کی ہر آس آج ٹوٹ گئی تمہیں بتاؤ کہ اب کس طرح جیا جائے ذرا تو سوچیے اس دل کا حال کیا ہوگا تلاش گل میں جو پتھر کی چوٹ کھا جائے سجا کے تم کو گلوں سے اٹھائے ہیں پتھر زمانہ کتنا ستم گر ہے کیا کیا جائے کریں ...

    مزید پڑھیے

    دل و نگاہ میں اک روشنی سی لگتی ہے

    دل و نگاہ میں اک روشنی سی لگتی ہے تمہاری یاد سے وابستگی سی لگتی ہے یہ کیا ستم ہے مہکتی ہوئی بہاروں میں ہر ایک چہرے پہ پژمردگی سی لگتی ہے یہ کس کے ہاتھ میں آیا ہے دور پیمانہ لبوں پہ اپنے بڑی تشنگی سی لگتی ہے ہم اپنے گھر میں بھی ہیں اب مسافروں کی طرح ہر ایک چیز یہاں اجنبی سی لگتی ...

    مزید پڑھیے

    یہ جو رنگین تبسم کی ادا ہے مجھ میں

    یہ جو رنگین تبسم کی ادا ہے مجھ میں مجھ کو لگتا ہے کوئی میرے سوا ہے مجھ میں خود بھی حیراں ہوں ازل سے کہ یہ کیا ہے مجھ میں کون شہ رگ سے مری بول رہا ہے مجھ میں عمر بھر جس کو ترے غم کی امانت سمجھا اب وہی تار نفس ٹوٹ گیا ہے مجھ میں ایک خوشبو سی ابھرتی ہے نفس سے میرے ہو نہ ہو آج کوئی آن ...

    مزید پڑھیے

    خالی شراب عشق سے ساغر کبھی نہ تھے

    خالی شراب عشق سے ساغر کبھی نہ تھے ایسے تو خشک دل کے سمندر کبھی نہ تھے جو سنگ احتساب یگانوں کے پاس ہیں دشمن کے ہاتھ میں بھی وہ پتھر کبھی نہ تھے کس سمت جا رہے ہیں انہیں خود پتا نہیں یوں بے خبر تو راہ سے رہبر کبھی نہ تھے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا زخمی ہے روح بھی اتنے تو تیز وقت کے نشتر ...

    مزید پڑھیے

    دلوں سے اٹھنے لگے گا دھواں تو کیا ہوگا

    دلوں سے اٹھنے لگے گا دھواں تو کیا ہوگا بدل گیا کبھی رنگ جہاں تو کیا ہوگا مچل گیا جو دل ناتواں تو کیا ہوگا اٹھا نہ عشق کا بار گراں تو کیا ہوگا ہمیں فریب محبت قبول ہے لیکن جو کھل گئی کبھی دل کی زباں تو کیا ہوگا ہم اہل دل ہیں کسی امتحاں سے کیا ڈرتے لیا فلک نے ترا امتحاں تو کیا ...

    مزید پڑھیے

    اگرچہ کہنے کو کل کائنات اپنی تھی

    اگرچہ کہنے کو کل کائنات اپنی تھی حقیقتاً کہاں اپنی بھی ذات اپنی تھی کہیں تو کس سے کہیں ہم حیات اپنی تھی نہ کوئی دن تھا ہمارا نہ رات اپنی تھی کوئی بھی آج تو اپنا نظر نہیں آتا جو تم تھے اپنے تو کل کائنات اپنی تھی یہ کیا کہ آج کوئی نام تک نہیں لیتا وہ دن بھی تھے کہ ہر اک لب پہ بات ...

    مزید پڑھیے

    نہ راس آئی چمن زار کی فضا مجھ کو

    نہ راس آئی چمن زار کی فضا مجھ کو مزاج برق نے بے گھر بنا دیا مجھ کو تمام عمر بھٹکتے رہے جو راہوں میں دکھا رہے ہیں وہی آج راستا مجھ کو ہجوم درد میں دل نے تو سب کا ساتھ دیا ملا نہ اپنے ہی اشکوں کا ہم نوا مجھ کو وہ پاس تھے تو ہر اک شے میں دل دھڑکتا تھا وہ دور ہیں تو کھٹکتی ہے ہر فضا مجھ ...

    مزید پڑھیے

    فصل گل کچھ بھی نہیں باد صبا کچھ بھی نہیں

    فصل گل کچھ بھی نہیں باد صبا کچھ بھی نہیں تیری محفل ہو تو جنت کی فضا کچھ بھی نہیں جان و دل کر دیے ہم نے تری راہوں میں نثار اور ہمارے لیے تہمت کے سوا کچھ بھی نہیں پکڑے جائیں گے ہمیں حشر میں بے جرم و قصور اور گناہ گار کو دنیا میں سزا کچھ بھی نہیں ان کے دل پر مرا احساس ستم بھی ہے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2