ساقی بھی مئے گلفام بھی ہے رندوں کو صلائے عام بھی ہے
ساقی بھی مئے گلفام بھی ہے رندوں کو صلائے عام بھی ہے گردش میں چھلکتا جام بھی ہے بہکیں تو مگر الزام بھی ہے سب کچھ میں لٹا دیتا لیکن کیا کہیے کہ ان کی نظروں میں ہشیاری کی تلقین بھی ہے سر مستی کا پیغام بھی ہے تنویر نمود صبح بھی ہے عارض کے دمکتے جلووں میں زلفوں کے مچلتے سائے میں ...