غم جمہور

جھکے گا خاک پہ یہ قصر آسماں اک دن
ہمارے زیر قدم ہوگی کہکشاں اک دن
بڑھے گا جانب منزل یہ کارواں اک دن
فضائے ارض و سما ہوگی ہم عناں اک دن
حیات خضر ملے گی ہر ایک ذرے کو
ہمارا نقش قدم ہوگا جاوداں اک دن
ابھی جو خرمن اہل وفا پہ گرتی ہیں
چراغ راہ بنیں گی وہ بجلیاں اک دن
بہ ایں یقین و بہ ایں اعتقاد حسن یقیں
ابھی تو آئے گا وہ عہد خونچکاں اک دن
وہ عہد جس میں عزائم کے سوز و ساز کے ساتھ
اٹھے گا سینۂ مزدور سے دھواں اک دن
ہمارے ذوق تجسس کی تشنہ کامی کا
زمانہ لے گا سر دار امتحاں اک دن
ملیں گے بھیس میں رہزن کے رہبران وطن
فریب دیں گے ہمارے ہی پاسباں اک دن
یہ زر پرست کہ ہیں انقلاب کے دشمن
مٹا کے ہم کو بہت ہوں گے شادماں اک دن
چمن پہ فرقہ پرستی کی آگ برسا کر
یہ پھونک دیں گے ہر اک شاخ آشیاں اک دن
انہیں کا تیر ہے وہ گوڈسےؔ ہو یا اکبرؔ
ہر ایک بزم پہ لچکے گی یہ کماں اک دن
بنائیں گے یہی جمہوریت کے پردے میں
ہمارے ملک پہ غیروں کو حکمراں اک دن
منائیں گے یہ غریبوں کے خون سے ہولی
اجاڑ دیں گے کسانوں کی بستیاں اک دن
یہ جانشین ہیں راون کے ان کی سازش سے
اٹھیں گی رام کی عظمت پہ انگلیاں اک دن
جلو میں ان کے وہ سیلاب کشت و خوں ہوگا
لرز اٹھیں گی ہمالہ کی چوٹیاں اک دن
بتان دیر ندامت سے سرنگوں ہوں گے
اٹھے گی سینۂ ناقوس سے فغاں اک دن