Masood Akhtar Jamal

مسعود اختر جمال

  • 1915 - 1981

قومی اور وطنی نظموں کے شاعر،"باغی کا ترانہ"جیسی مشہور نظم کے خالق،ان کی نظم "غریبوں کا گیت " کو پنڈت نہرو نے ہندوستان کا نصب العین کہا تھا

Nationalist and patriotic poet, Known for his nazm “Baghi Ka Tarana’’ Once Pandit Nehru said his nazm titled “Gharibon Ka Geet” is India's dream

مسعود اختر جمال کے تمام مواد

11 غزل (Ghazal)

    ساقی بھی مئے گلفام بھی ہے رندوں کو صلائے عام بھی ہے

    ساقی بھی مئے گلفام بھی ہے رندوں کو صلائے عام بھی ہے گردش میں چھلکتا جام بھی ہے بہکیں تو مگر الزام بھی ہے سب کچھ میں لٹا دیتا لیکن کیا کہیے کہ ان کی نظروں میں ہشیاری کی تلقین بھی ہے سر مستی کا پیغام بھی ہے تنویر نمود صبح بھی ہے عارض کے دمکتے جلووں میں زلفوں کے مچلتے سائے میں ...

    مزید پڑھیے

    گلوں کو شعلہ مزاجی سکھائی جاتی ہے

    گلوں کو شعلہ مزاجی سکھائی جاتی ہے چمن کی آگ چمن میں لگائی جاتی ہے جنون فرقہ پرستی ارے معاذ اللہ ہر اک قدم پہ قیامت اٹھائی جاتی ہے وہ آگ جس نے مرے گلستاں کو پھونک دیا نگاہ شیخ و برہمن میں پائی جاتی ہے ہمیں پہ ختم نہیں کفر عشق اے ناصح بتوں کے ساتھ خدا کی خدائی جاتی ہے نہیں یہ غم ...

    مزید پڑھیے

    شاعری میری غم عشق کی تفسیر بھی ہے

    شاعری میری غم عشق کی تفسیر بھی ہے رامش و رنگ کے لمحات کی تصویر بھی ہے مژدۂ امن بھی ہے میری نوائے ہستی وقت کے ہاتھ میں چلتی ہوئی شمشیر بھی ہے ساز اٹھاتا ہوں مگر یاد رہے اہل نشاط ساز کی لے میں نہاں سوز کی تاثیر بھی ہے زندگی خواب سہی خواب پریشاں ہی سہی دل یہ کہتا ہے یہی خواب کی ...

    مزید پڑھیے

    یوں ہی چپکے چپکے رونا یوں ہی دل ہی دل میں باتیں

    یوں ہی چپکے چپکے رونا یوں ہی دل ہی دل میں باتیں بڑی کشمکش کے دن ہیں بڑی الجھنوں کی راتیں ہے نفس نفس فروزاں ہے مژہ مژہ چراغاں بڑی دھوم سے اٹھی ہیں غم و درد کی براتیں مرے ذہن کی خلا میں مرے دل کی وسعتوں میں کہیں رنگ و بو کے خیمے کہیں نور کی قناتیں انہیں اے غم زمانہ کبھی رائیگاں نہ ...

    مزید پڑھیے

    جنون عشق نہ کر اضطراب کی توہین

    جنون عشق نہ کر اضطراب کی توہین یہ آہ نیم شبی ہے شباب کی توہین جس انجمن کو بنایا تھا ہم نے رشک ارم وہیں ہوئی دل خانہ خراب کی توہین یہی تضاد تو رونق فروز عالم ہے نہیں یہ تیرہ شبی آفتاب کی توہین نظر اٹھا کہ نظاروں میں جان پڑ جائے حجاب کم نظری ہے حجاب کی توہین خیال توبہ مجھے یوں تو ...

    مزید پڑھیے

تمام

6 نظم (Nazm)

    غم جمہور

    جھکے گا خاک پہ یہ قصر آسماں اک دن ہمارے زیر قدم ہوگی کہکشاں اک دن بڑھے گا جانب منزل یہ کارواں اک دن فضائے ارض و سما ہوگی ہم عناں اک دن حیات خضر ملے گی ہر ایک ذرے کو ہمارا نقش قدم ہوگا جاوداں اک دن ابھی جو خرمن اہل وفا پہ گرتی ہیں چراغ راہ بنیں گی وہ بجلیاں اک دن بہ ایں یقین و بہ ایں ...

    مزید پڑھیے

    کسانوں کا گیت

    یہ دھرتی یہ جیون ساگر یہ سنسار ہمارا ہے امرت بادل بن کے اٹھے ہیں پربت سے ٹکرائیں گے کھیتوں کی ہریالی بن کر چھب اپنی دکھلائیں گے دنیا کا دکھ سکھ اپنا کر دنیا پر چھا جائیں گے ذرہ ذرہ اس دنیا کا آج گگن کا تارا ہے یہ دھرتی یہ جیون ساگر یہ سنسار ہمارا ہے دکھ بندھن کٹ جائیں گے سکھ کا ...

    مزید پڑھیے

    صدر جمہوریۂ ہند

    صدر جمہوریۂ ہند یقیناً آپ فخرالدین بھی ناز‌ امم بھی ہیں علی احمد بھی ہیں آگاہ آداب‌ حرم بھی ہیں وقار ہوش بھی عظمت فروز علم و دانش بھی گرامی قدر بھی ذی تمکنت بھی محترم بھی ہیں تب و تاب چمن بھی ذوق تمکین بہاراں بھی جہان شوق کا افسانۂ جاہ و حشم بھی ہیں کرشمہ ہے خدا کا آپ کے اوصاف ...

    مزید پڑھیے

    ترجمان مستقبل

    تری نگاہ کہ ہے پاسبان‌ مستقبل سنا رہی ہے ہمیں داستان مستقبل تری حیات کہ ہے ترجمان مستقبل لئے ہے کیف‌ و نشاط جہان مستقبل ہے سر بلند کبھی سے نشان مستقبل زمیں کو تو نے کیا آسمان مستقبل تجھی سے غیرت کشمیر ہے دیار وطن تجھی سے رشک ارم گلستان مستقبل ترے یقیں نے کیا ہے وہ انقلاب عظیم کہ ...

    مزید پڑھیے

    غریبوں کا گیت

    غریبی کو مٹا دیں گے غریبی کو مٹا دیں گے ہم اپنے بازوؤں کا زور دنیا کو دکھائیں گے ہوس کے آسماں بر دوش محلوں کو گرا دیں گے در انسانیت پر ظالموں کے سر جھکا دیں گے غریبی کو مٹا دیں گے غریبی کو مٹا دیں گے کسی کے عیش سے بے واسطہ رنجش نہیں ہم کو کسی کے سیم و زر سے بے سبب کاوش نہیں ہم ...

    مزید پڑھیے

تمام