Masood Akhtar Jamal

مسعود اختر جمال

  • 1915 - 1981

قومی اور وطنی نظموں کے شاعر،"باغی کا ترانہ"جیسی مشہور نظم کے خالق،ان کی نظم "غریبوں کا گیت " کو پنڈت نہرو نے ہندوستان کا نصب العین کہا تھا

Nationalist and patriotic poet, Known for his nazm “Baghi Ka Tarana’’ Once Pandit Nehru said his nazm titled “Gharibon Ka Geet” is India's dream

مسعود اختر جمال کی نظم

    غم جمہور

    جھکے گا خاک پہ یہ قصر آسماں اک دن ہمارے زیر قدم ہوگی کہکشاں اک دن بڑھے گا جانب منزل یہ کارواں اک دن فضائے ارض و سما ہوگی ہم عناں اک دن حیات خضر ملے گی ہر ایک ذرے کو ہمارا نقش قدم ہوگا جاوداں اک دن ابھی جو خرمن اہل وفا پہ گرتی ہیں چراغ راہ بنیں گی وہ بجلیاں اک دن بہ ایں یقین و بہ ایں ...

    مزید پڑھیے

    کسانوں کا گیت

    یہ دھرتی یہ جیون ساگر یہ سنسار ہمارا ہے امرت بادل بن کے اٹھے ہیں پربت سے ٹکرائیں گے کھیتوں کی ہریالی بن کر چھب اپنی دکھلائیں گے دنیا کا دکھ سکھ اپنا کر دنیا پر چھا جائیں گے ذرہ ذرہ اس دنیا کا آج گگن کا تارا ہے یہ دھرتی یہ جیون ساگر یہ سنسار ہمارا ہے دکھ بندھن کٹ جائیں گے سکھ کا ...

    مزید پڑھیے

    صدر جمہوریۂ ہند

    صدر جمہوریۂ ہند یقیناً آپ فخرالدین بھی ناز‌ امم بھی ہیں علی احمد بھی ہیں آگاہ آداب‌ حرم بھی ہیں وقار ہوش بھی عظمت فروز علم و دانش بھی گرامی قدر بھی ذی تمکنت بھی محترم بھی ہیں تب و تاب چمن بھی ذوق تمکین بہاراں بھی جہان شوق کا افسانۂ جاہ و حشم بھی ہیں کرشمہ ہے خدا کا آپ کے اوصاف ...

    مزید پڑھیے

    ترجمان مستقبل

    تری نگاہ کہ ہے پاسبان‌ مستقبل سنا رہی ہے ہمیں داستان مستقبل تری حیات کہ ہے ترجمان مستقبل لئے ہے کیف‌ و نشاط جہان مستقبل ہے سر بلند کبھی سے نشان مستقبل زمیں کو تو نے کیا آسمان مستقبل تجھی سے غیرت کشمیر ہے دیار وطن تجھی سے رشک ارم گلستان مستقبل ترے یقیں نے کیا ہے وہ انقلاب عظیم کہ ...

    مزید پڑھیے

    غریبوں کا گیت

    غریبی کو مٹا دیں گے غریبی کو مٹا دیں گے ہم اپنے بازوؤں کا زور دنیا کو دکھائیں گے ہوس کے آسماں بر دوش محلوں کو گرا دیں گے در انسانیت پر ظالموں کے سر جھکا دیں گے غریبی کو مٹا دیں گے غریبی کو مٹا دیں گے کسی کے عیش سے بے واسطہ رنجش نہیں ہم کو کسی کے سیم و زر سے بے سبب کاوش نہیں ہم ...

    مزید پڑھیے

    جذب غیرت

    وفا کا ذوق دیا ہے تری محبت نے دلوں کو فتح کیا جذبۂ شرافت نے تری حیا سے تقدس ہے آدمیت کا کیا ہے تجھ کو سرافراز جذب غیرت نے چمن میں جس سے ہے اذن‌ شگفت غنچہ و گل گداز قلب وہ بخشا ہے تجھ کو قدرت نے بہت ہی کم ہیں وہ شائستۂ نظر جن کو خراج شوق دیا زندگی کی عظمت نے ہر ایک بیکس و مظلوم کی ...

    مزید پڑھیے