جنون عشق نہ کر اضطراب کی توہین
جنون عشق نہ کر اضطراب کی توہین
یہ آہ نیم شبی ہے شباب کی توہین
جس انجمن کو بنایا تھا ہم نے رشک ارم
وہیں ہوئی دل خانہ خراب کی توہین
یہی تضاد تو رونق فروز عالم ہے
نہیں یہ تیرہ شبی آفتاب کی توہین
نظر اٹھا کہ نظاروں میں جان پڑ جائے
حجاب کم نظری ہے حجاب کی توہین
خیال توبہ مجھے یوں تو ہے مگر ساقی
نہ ہوگی مجھ سے شب ماہتاب کی توہین