شاعری میری غم عشق کی تفسیر بھی ہے
شاعری میری غم عشق کی تفسیر بھی ہے
رامش و رنگ کے لمحات کی تصویر بھی ہے
مژدۂ امن بھی ہے میری نوائے ہستی
وقت کے ہاتھ میں چلتی ہوئی شمشیر بھی ہے
ساز اٹھاتا ہوں مگر یاد رہے اہل نشاط
ساز کی لے میں نہاں سوز کی تاثیر بھی ہے
زندگی خواب سہی خواب پریشاں ہی سہی
دل یہ کہتا ہے یہی خواب کی تعبیر بھی ہے
ناشنیدہ سے جو اب تک مرے نغمے ہیں جمالؔ
کچھ زمانے کی خطا کچھ مری تقصیر بھی ہے