مقصود وفا کی غزل

    خالی سینے میں دھڑکتے ہوئے آوازے سے

    خالی سینے میں دھڑکتے ہوئے آوازے سے بھر گئی عمر مری سانس کے خمیازے سے منتظر ہی نہ رہا بام تمنا پہ کوئی اور ہوا آ کے گزرتی رہی دروازے سے شام صد رنگ مرے آئنہ خانے میں ٹھہر میں نے تصویر بنانی ہے ترے غازے سے مجھ کو آیا ہی نہیں جس کا یقیں آج تلک وہ خدا کتنا بڑا ہے مرے اندازے سے اور ...

    مزید پڑھیے

    کام اس دل کی تباہی سے لیا کیا جائے

    کام اس دل کی تباہی سے لیا کیا جائے سوچتا ہوں کہ خرابے میں کیا کیا جائے اے کسی یاد کی کھڑکی سے گزرتے موسم کیا دیا جائے تجھے اور لیا کیا جائے اس گریباں کو کسی موج میں آ کر میں نے چاک اگر کر ہی لیا ہے تو سیا کیا جائے تیری خواہش کے کسی آخری دروازے پر مرنا ممکن نہ رہے گر تو جیا کیا ...

    مزید پڑھیے

    تجھ سے اب درد کا رشتہ بھی نہیں چاہئے ہے

    تجھ سے اب درد کا رشتہ بھی نہیں چاہئے ہے جا مجھے تیری تمنا بھی نہیں چاہئے ہے دیکھ کچھ بھی نہ سکوں میں کسی سائے کے سوا روشنی اتنی زیادہ بھی نہیں چاہئے ہے اک نظر تشنۂ نظارہ ہی رکھ لینی ہے اک تماشے میں تماشا بھی نہیں چاہئے ہے خیر و شر دونوں مجھے زخم دئیے جاتے ہیں یہ برا کیا مجھے ...

    مزید پڑھیے

    جو سیر انجم و خورشید کا ارادہ کیا

    جو سیر انجم و خورشید کا ارادہ کیا غبار رخت سفر اور جنون جادہ کیا بہت سے کام کیے ہیں تری طلب میں مگر یہ کار درد ضرورت سے کچھ زیادہ کیا فضائے ہوش و خرد میں بڑا اندھیرا تھا سو ہم نے آنکھ میں روشن چراغ بادہ کیا بڑھا جو غم کسی لمحے تری جدائی کا تو ہم نے جاں کے زیاں سے بھی استفادہ ...

    مزید پڑھیے

    ایسی وحشت پہ میں قربان بھی ہو سکتا ہوں

    ایسی وحشت پہ میں قربان بھی ہو سکتا ہوں میں جو دریا ہوں بیابان بھی ہو سکتا ہوں ہنسنے رونے کے علاوہ بھی رسائی ہے مری میں اگر چاہوں تو حیران بھی ہو سکتا ہوں میں کہ جس خاک میں پامال ہوا جاتا ہوں میں اسی خاک پہ احسان بھی ہو سکتا ہوں مجھ پہ مشکل نہ بنا گزری ہوئی یادوں کو میں تجھے بھول ...

    مزید پڑھیے

    اب کوئی راہ بھی آسان نہیں دیکھنے میں

    اب کوئی راہ بھی آسان نہیں دیکھنے میں دیکھتے رہتے ہیں اور دھیان نہیں دیکھنے میں کتنی ویران نظر آتی ہے تا حد نظر یہی دنیا کہ جو ویران نہیں دیکھنے میں خالی تنہائی خزانوں سے بھری رہتی ہے اور یہاں کوئی بھی سامان نہیں دیکھنے میں ان دنوں فرصت تعبیر کہاں ممکن ہے ان دنوں خواب بھی آسان ...

    مزید پڑھیے

    گرد اپنی اتارتا ہوں ذرا

    گرد اپنی اتارتا ہوں ذرا یہ شب و روز جھاڑتا ہوں ذرا کار دنیا کوئی رعایت کر فرصت خواب چاہتا ہوں ذرا اب میں اتنا بھی صبر والا نہیں گاہے گاہے کراہتا ہوں ذرا اک تو میں چاہتا ہوں تنہائی اک ترا ساتھ چاہتا ہوں ذرا کرنے والا ہے اک ستارہ کلام تھوڑی دیر اور جاگتا ہوں ذرا

    مزید پڑھیے

    جاگتا رہتا ہوں اور کھڑکی کھلی رہتی ہے

    جاگتا رہتا ہوں اور کھڑکی کھلی رہتی ہے کیا خوشی ہے کہ مصیبت ہی پڑی رہتی ہے اتنی دیواریں گرا کر بھی یہی دیکھا ہے ایک دیوار مری رہ میں کھڑی رہتی ہے باغ میں بکھرے ہوئے رنگ بہت ظالم ہیں بعض گوشوں میں تو ویرانی پڑی رہتی ہے ہجر میں وصل کے پھل پھول کھلے رہتے ہیں شاخ بچھڑے ہوئے موسم سے ...

    مزید پڑھیے

    تمہارے ہجر کا انجام خوب صورت ہے

    تمہارے ہجر کا انجام خوب صورت ہے بہت اداس مگر شام خوب صورت ہے پھر اس کے بعد یہ رستہ کدھر کو جاتا ہے یہ زندگی تو کوئی گام خوب صورت ہے تو جس طرح سے حسیں ہے زمانے بھر سے الگ اسی طرح سے ترا نام خوب صورت ہے نہیں ضروری کہ ہر بات کی وضاحت ہو کہیں کہیں پہ یہ ابہام خوب صورت ہے میں اس لیے ...

    مزید پڑھیے

    ضبط گریہ میں بھی گریہ تو کیا ہے میں نے

    ضبط گریہ میں بھی گریہ تو کیا ہے میں نے چپ رہا ہوں پہ تماشا تو کیا ہے میں نے اب اڑاؤں گا اسے تیرے فلک پر اک دن اپنی مٹی کو اکٹھا تو کیا ہے میں نے دیکھیے کس کے خد و خال نظر آتے ہیں ایک دیوار کو شیشہ تو کیا ہے میں نے اب میں کچھ اور بنوں ایسی بیابانی میں ٹوٹ جانے کا ارادہ تو کیا ہے میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2