ایسی وحشت پہ میں قربان بھی ہو سکتا ہوں

ایسی وحشت پہ میں قربان بھی ہو سکتا ہوں
میں جو دریا ہوں بیابان بھی ہو سکتا ہوں


ہنسنے رونے کے علاوہ بھی رسائی ہے مری
میں اگر چاہوں تو حیران بھی ہو سکتا ہوں


میں کہ جس خاک میں پامال ہوا جاتا ہوں
میں اسی خاک پہ احسان بھی ہو سکتا ہوں


مجھ پہ مشکل نہ بنا گزری ہوئی یادوں کو
میں تجھے بھول کے آسان بھی ہو سکتا ہوں


اتنے غم دیتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا اس نے
میں کسی غم میں پریشان بھی ہو سکتا ہوں


میں کہ جس شوق میں آباد ہوں مقصودؔ وفاؔ
میں اسی شوق میں ویران بھی ہو سکتا ہوں