کام اس دل کی تباہی سے لیا کیا جائے
کام اس دل کی تباہی سے لیا کیا جائے
سوچتا ہوں کہ خرابے میں کیا کیا جائے
اے کسی یاد کی کھڑکی سے گزرتے موسم
کیا دیا جائے تجھے اور لیا کیا جائے
اس گریباں کو کسی موج میں آ کر میں نے
چاک اگر کر ہی لیا ہے تو سیا کیا جائے
تیری خواہش کے کسی آخری دروازے پر
مرنا ممکن نہ رہے گر تو جیا کیا جائے