مقصود وفا کی غزل

    خام ہونے کے انتظار میں ہوں

    خام ہونے کے انتظار میں ہوں عام ہونے کے انتظار میں ہوں میں جسے کام ہی نہیں کوئی کام ہونے کے انتظار میں ہوں رکھ کے شیشہ و جام سامنے میں شام ہونے کے انتظار میں ہوں اپنی گمنام حسرتوں میں وفاؔ نام ہونے کے انتظار میں ہوں

    مزید پڑھیے

    فصیل جاں کے قیدی ہیں مگر یہ دھیان رکھا ہے

    فصیل جاں کے قیدی ہیں مگر یہ دھیان رکھا ہے ہوا کے واسطے ہم نے در امکان رکھا ہے سجا سکتے تھے یادوں کے کئی چہرے کئی پیکر مگر کچھ سوچ کر ہم نے یہ گھر ویران رکھا ہے ہمیں شوق اذیت ہے وگرنہ اس زمانے میں تری یادیں بھلانے کو بہت سامان رکھا ہے تری جھولی میں لا ڈالیں گے قرضے اس محبت کے کہ ...

    مزید پڑھیے

    کنج تنہائی میں رکھا ہوا رہ جاتا ہے

    کنج تنہائی میں رکھا ہوا رہ جاتا ہے دل کہ سینے میں اچھلتا ہوا رہ جاتا ہے جنبش چشم سے دنیا ہی بدل جاتی ہے اور مری آنکھ میں سوچا ہوا رہ جاتا ہے اب تو ایسا ہے کہ آنکھوں کو اگر کھول بھی لوں دل کسی خواب میں لپٹا ہوا رہ جاتا ہے لکھ تو لیتے ہیں ترا نام بصد شوق مگر کیا کبھی ریت پہ لکھا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    ایک یہ دل جو تجھے دے کے گنوا دینے لگا

    ایک یہ دل جو تجھے دے کے گنوا دینے لگا اور اک چیز کوئی اس کے سوا دینے لگا ایسی خوشبو ہے کہ اب ضبط نہیں ہے ممکن میں ہواؤں کو کوئی راز بتا دینے لگا اب مرے سامنے رستہ ہی کچھ ایسا ہے کہ میں اپنی منزل کو بھی رستے سے ہٹا دینے لگا وہ جسے دیکھ کے جلنے میں مزا لینا تھا وقت وہ داغ تمنا بھی ...

    مزید پڑھیے

    اس غم کو اختیار نہیں کر رہا ہوں میں

    اس غم کو اختیار نہیں کر رہا ہوں میں یہ تو نہیں کہ پیار نہیں کر رہا ہوں میں اپنی اداسیوں کے نشے میں ہوں آج کل شغل خم و خمار نہیں کر رہا ہوں میں کچھ دیر سے ہے رنگ تماشا رکا ہوا اک تیر دل سے پار نہیں کر رہا ہوں میں اب دیکھتا ہوں راہ میں دنیا سجی ہوئی اب تیرا انتظار نہیں کر رہا ہوں ...

    مزید پڑھیے

    تھک کے بیٹھوں تو مجھے رستہ نظر آئے گا

    تھک کے بیٹھوں تو مجھے رستہ نظر آئے گا شام اس دشت میں گزرے گی تو گھر آئے گا سوچ کر میری محبت میں قدم رکھنا تم اس سے آگے تو بہت لمبا سفر آئے گا منتظر آنکھیں کسی طاق میں بجھ جائیں گی کوئی ہوگا ہی نہیں کوئی اگر آئے گا سیکھ جاؤں گا ترے بعد بھی جینا لیکن مجھ کو اے دوست ترے ہجر سے ڈر آئے ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2