مقصود وفا کے تمام مواد

16 غزل (Ghazal)

    خالی سینے میں دھڑکتے ہوئے آوازے سے

    خالی سینے میں دھڑکتے ہوئے آوازے سے بھر گئی عمر مری سانس کے خمیازے سے منتظر ہی نہ رہا بام تمنا پہ کوئی اور ہوا آ کے گزرتی رہی دروازے سے شام صد رنگ مرے آئنہ خانے میں ٹھہر میں نے تصویر بنانی ہے ترے غازے سے مجھ کو آیا ہی نہیں جس کا یقیں آج تلک وہ خدا کتنا بڑا ہے مرے اندازے سے اور ...

    مزید پڑھیے

    کام اس دل کی تباہی سے لیا کیا جائے

    کام اس دل کی تباہی سے لیا کیا جائے سوچتا ہوں کہ خرابے میں کیا کیا جائے اے کسی یاد کی کھڑکی سے گزرتے موسم کیا دیا جائے تجھے اور لیا کیا جائے اس گریباں کو کسی موج میں آ کر میں نے چاک اگر کر ہی لیا ہے تو سیا کیا جائے تیری خواہش کے کسی آخری دروازے پر مرنا ممکن نہ رہے گر تو جیا کیا ...

    مزید پڑھیے

    تجھ سے اب درد کا رشتہ بھی نہیں چاہئے ہے

    تجھ سے اب درد کا رشتہ بھی نہیں چاہئے ہے جا مجھے تیری تمنا بھی نہیں چاہئے ہے دیکھ کچھ بھی نہ سکوں میں کسی سائے کے سوا روشنی اتنی زیادہ بھی نہیں چاہئے ہے اک نظر تشنۂ نظارہ ہی رکھ لینی ہے اک تماشے میں تماشا بھی نہیں چاہئے ہے خیر و شر دونوں مجھے زخم دئیے جاتے ہیں یہ برا کیا مجھے ...

    مزید پڑھیے

    جو سیر انجم و خورشید کا ارادہ کیا

    جو سیر انجم و خورشید کا ارادہ کیا غبار رخت سفر اور جنون جادہ کیا بہت سے کام کیے ہیں تری طلب میں مگر یہ کار درد ضرورت سے کچھ زیادہ کیا فضائے ہوش و خرد میں بڑا اندھیرا تھا سو ہم نے آنکھ میں روشن چراغ بادہ کیا بڑھا جو غم کسی لمحے تری جدائی کا تو ہم نے جاں کے زیاں سے بھی استفادہ ...

    مزید پڑھیے

    ایسی وحشت پہ میں قربان بھی ہو سکتا ہوں

    ایسی وحشت پہ میں قربان بھی ہو سکتا ہوں میں جو دریا ہوں بیابان بھی ہو سکتا ہوں ہنسنے رونے کے علاوہ بھی رسائی ہے مری میں اگر چاہوں تو حیران بھی ہو سکتا ہوں میں کہ جس خاک میں پامال ہوا جاتا ہوں میں اسی خاک پہ احسان بھی ہو سکتا ہوں مجھ پہ مشکل نہ بنا گزری ہوئی یادوں کو میں تجھے بھول ...

    مزید پڑھیے

تمام

3 نظم (Nazm)

    جانے کیا سچ ہے یہاں

    جانے کیا سچ ہے یہاں کہکشاؤں کا یہ جادو کہ گزر گاہ خیال کوئی تارا کہ دریچے میں چمکتا ہوا چاند یا مرے سرخ پپوٹوں پہ رکھے خواب کی وحشت کا غبار یا کسی جسم کو چھو لینے کی خواہش میں بھٹکتی ہوئی آنکھ یا رگ و پے میں سلگتی ہوئی لذت کا خمار کوئی انکار کہ اقرار جانے کیا سچ ہے یہاں شام افسوس ...

    مزید پڑھیے

    زیب النسا ایک نظم تمہارے لئے بھی

    کیا عجب شام ہے! دیکھو زیب النسا فرصتوں میں کسی پیڑ کی نرم چھاؤں میں سوچی ہوئی آبشاروں سے گرتے ہوئے پانیوں میں نہائی ہوئی تیرے ملبوس کی خوشبوؤں کو اڑاتی ہوئی کیا عجب شام ہے تیرے شانوں پہ آنچل ٹھہرتا نہیں اور تو نے ہوا کو بہانہ کیا کتنی چالاک ہو چائے میں اپنی پوروں کی شیرینیاں ...

    مزید پڑھیے

    تاریخ کا نوحہ

    شاہوں کو خبر نہیں ہو سکی کہ بلڈوزروں سے ہٹائی گئی میتوں کی ڈھیر میں کس کس کے احرام پر لہو نے آیتیں رقم کیں حاجیوں کی جمع پونجی سے منافع بٹورتی حکومتیں آب زم زم کے چشمے اور پٹرول کے کنویں میں تمیز کرنا بھول جائیں تو خون کی لکیر حرم سے نکل کر منا تک پہنچ جاتی ہے شاہی فرمان کو عبادت ...

    مزید پڑھیے