جانے کیا سچ ہے یہاں
جانے کیا سچ ہے یہاں کہکشاؤں کا یہ جادو کہ گزر گاہ خیال کوئی تارا کہ دریچے میں چمکتا ہوا چاند یا مرے سرخ پپوٹوں پہ رکھے خواب کی وحشت کا غبار یا کسی جسم کو چھو لینے کی خواہش میں بھٹکتی ہوئی آنکھ یا رگ و پے میں سلگتی ہوئی لذت کا خمار کوئی انکار کہ اقرار جانے کیا سچ ہے یہاں شام افسوس ...