مقصود وفا کی نظم

    جانے کیا سچ ہے یہاں

    جانے کیا سچ ہے یہاں کہکشاؤں کا یہ جادو کہ گزر گاہ خیال کوئی تارا کہ دریچے میں چمکتا ہوا چاند یا مرے سرخ پپوٹوں پہ رکھے خواب کی وحشت کا غبار یا کسی جسم کو چھو لینے کی خواہش میں بھٹکتی ہوئی آنکھ یا رگ و پے میں سلگتی ہوئی لذت کا خمار کوئی انکار کہ اقرار جانے کیا سچ ہے یہاں شام افسوس ...

    مزید پڑھیے

    زیب النسا ایک نظم تمہارے لئے بھی

    کیا عجب شام ہے! دیکھو زیب النسا فرصتوں میں کسی پیڑ کی نرم چھاؤں میں سوچی ہوئی آبشاروں سے گرتے ہوئے پانیوں میں نہائی ہوئی تیرے ملبوس کی خوشبوؤں کو اڑاتی ہوئی کیا عجب شام ہے تیرے شانوں پہ آنچل ٹھہرتا نہیں اور تو نے ہوا کو بہانہ کیا کتنی چالاک ہو چائے میں اپنی پوروں کی شیرینیاں ...

    مزید پڑھیے

    تاریخ کا نوحہ

    شاہوں کو خبر نہیں ہو سکی کہ بلڈوزروں سے ہٹائی گئی میتوں کی ڈھیر میں کس کس کے احرام پر لہو نے آیتیں رقم کیں حاجیوں کی جمع پونجی سے منافع بٹورتی حکومتیں آب زم زم کے چشمے اور پٹرول کے کنویں میں تمیز کرنا بھول جائیں تو خون کی لکیر حرم سے نکل کر منا تک پہنچ جاتی ہے شاہی فرمان کو عبادت ...

    مزید پڑھیے