جانے کیا سچ ہے یہاں
جانے کیا سچ ہے یہاں
کہکشاؤں کا یہ جادو کہ گزر گاہ خیال
کوئی تارا
کہ دریچے میں چمکتا ہوا چاند
یا مرے سرخ پپوٹوں پہ رکھے خواب کی وحشت کا غبار
یا کسی جسم کو چھو لینے کی خواہش میں بھٹکتی ہوئی آنکھ
یا رگ و پے میں سلگتی ہوئی لذت کا خمار
کوئی انکار کہ اقرار
جانے کیا سچ ہے یہاں
شام افسوس کا ڈوبا ہوا سورج یا کوئی صبح وصال
کہکشاؤں کا یہ جادو کہ گزر گاہ خیال
کوئی پیغام محبت یہ سیاست یا کسی حلقۂ زنجیر میں جسم
راہ میں جھکتے ہوئے سر یا کسی شاہ کے مغرور قدم
یا کسی موج میں آئے ہوئے مجذوب کا روندا ہوا تاج
لڑکھڑاتے ہوئے پلڑوں میں یہ انصاف کی بھیک
یہ مورخ کی لہو چاٹتی مٹی کا بیاں
جانے کیا سچ ہے یہاں
اپنے ہونے کی حقیقت یا کسی قبر میں گاڑے ہوئے کتبے کی دراڑ
یہ خدا یا کسی درگاہ پہ رکھے ہوئے آنسو کی تپش
میرا ایماں کہ صنم خانہ تنہائی میں
اس بت کافر کی کشش
اپنے مرنے کی تمنا ہے کہ جینے کی خلش
اے گزر گاہ خیال
اب کسی روز تو کھل جائے یہ عقدہ آخر
غار کے منہ سے ہٹائے کوئی پتھر آ کر
خاک میں اڑتے مہ و سال کا اسرار کھلے
وہ جو دیوار کے اس پار ہے اس پار کھلے