Manzil Loha Theri

منزل لوہا ٹھیری

منزل لوہا ٹھیری کی غزل

    دل کی بیتابیوں کا بدل ہو گئی

    دل کی بیتابیوں کا بدل ہو گئی آپ جب یاد آئے غزل ہو گئی زندگی اتنی تکلیف دہ تو نہ تھی جتنی تکلیف دہ آج کل ہو گئی کتنے بھونروں نے اس پر اڑانیں بھریں ایک ننھی کلی جب کنول ہو گئی کیا تری بے رخی کو بھلا پائے گی وہ ملاقات جو چند پل ہو گئی ان سے کوئی شکایت نہ کی عمر بھر جانے کیوں اک ذرا ...

    مزید پڑھیے

    جب بھی فولاد پگھل جاتا ہے

    جب بھی فولاد پگھل جاتا ہے جیسا منظور ہو ڈھل جاتا ہے جس طرح تیر کماں سے نکلے اس طرح وقت نکل جاتا ہے وقت کے داؤ سے بچنے والو وقت کا داؤ تو چل جاتا ہے کسی تقدیر میں لکھی ہو مگر کب تری زلف کا بل جاتا ہے پھول چھوتا ہے وہ ہوتا ہے شاد آگ چھوتا ہے وہ جل جاتا ہے وہ کسی چھوٹے سے بچے کی ...

    مزید پڑھیے

    ملتے ہیں چھٹ جاتے ہیں

    ملتے ہیں چھٹ جاتے ہیں ساتھی پھر بھی بھاتے ہیں دل میں کوئی درد نہ تھا اب وہ دن یاد آتے ہیں ہو جن کا احساس فقیر جھولی وہ پھیلاتے ہیں لوگ سبھی کی کمزوری اوروں تک پہنچاتے ہیں روکے ہاتھ نہیں رکتے پھول ایسے مدھ ماتے ہیں غم سے تو کیا گھبراتے ہم تم سے گھبراتے ہیں جن سے کچھ امید نہ ...

    مزید پڑھیے

    دعا یہ ہے کہ نہ دے ساتھ اب حیات بہت

    دعا یہ ہے کہ نہ دے ساتھ اب حیات بہت کہ مجھ پہ بھاری ہے غم کی سیاہ رات بہت مجھی سے عشق وفاؤں کی کائنات کو تھا مجھی کو روئی وفاؤں کی کائنات بہت تمام رات تمہارا ہی انتظار رہا تمہیں کو میں نے پکارا تمام رات بہت ہر اک امنگ ابھرتی تھی ڈوب جانے کو بہت قریب تھی حد تعینات بہت وہ میری ...

    مزید پڑھیے

    بہار صبح عجب رنگ و بو میں گزری ہے

    بہار صبح عجب رنگ و بو میں گزری ہے کلی کلی یہ لگے ہے لہو میں گزری ہے مرے شعور کے تاروں کو چھیڑنے والے تمام عمر تری جستجو میں گزری ہے ترے سوا نہ مجھے یاد آ سکا کوئی تمام عمر مری تو ہی تو میں گزری ہے وہ بد نصیب جسے کوئی آستاں نہ ملا حیات اس کی غم کو بہ کو میں گزری ہے مشاہدہ ہے مرا یہ ...

    مزید پڑھیے