دعا یہ ہے کہ نہ دے ساتھ اب حیات بہت
دعا یہ ہے کہ نہ دے ساتھ اب حیات بہت
کہ مجھ پہ بھاری ہے غم کی سیاہ رات بہت
مجھی سے عشق وفاؤں کی کائنات کو تھا
مجھی کو روئی وفاؤں کی کائنات بہت
تمام رات تمہارا ہی انتظار رہا
تمہیں کو میں نے پکارا تمام رات بہت
ہر اک امنگ ابھرتی تھی ڈوب جانے کو
بہت قریب تھی حد تعینات بہت
وہ میری تیری محبت کی بات ہے پیارے
چلی ہے جو بھی زمانے میں کوئی بات بہت
جلی جلی سی گزاری تھی زندگی میں نے
بجھی بجھی سی رہی ہے مری حیات بہت
خدا گواہ مرے غزنوی کو کیا معلوم
برا سا لگتا ہے ویران سومنات بہت
مری اداس نگاہوں کو دیکھنے والو
نئے کھلاڑی کو ہوتی ہے ایک مات بہت