جب بھی فولاد پگھل جاتا ہے
جب بھی فولاد پگھل جاتا ہے
جیسا منظور ہو ڈھل جاتا ہے
جس طرح تیر کماں سے نکلے
اس طرح وقت نکل جاتا ہے
وقت کے داؤ سے بچنے والو
وقت کا داؤ تو چل جاتا ہے
کسی تقدیر میں لکھی ہو مگر
کب تری زلف کا بل جاتا ہے
پھول چھوتا ہے وہ ہوتا ہے شاد
آگ چھوتا ہے وہ جل جاتا ہے
وہ کسی چھوٹے سے بچے کی طرح
بات میں رنگ بدل جاتا ہے
ان کے الطاف کرم کے صدقے
ہاں برا وقت بھی ٹل جاتا ہے
منزلؔ زار کو پوچھو کیا ہو
وہ تو باتوں میں بہل جاتا ہے