دل کی بیتابیوں کا بدل ہو گئی

دل کی بیتابیوں کا بدل ہو گئی
آپ جب یاد آئے غزل ہو گئی


زندگی اتنی تکلیف دہ تو نہ تھی
جتنی تکلیف دہ آج کل ہو گئی


کتنے بھونروں نے اس پر اڑانیں بھریں
ایک ننھی کلی جب کنول ہو گئی


کیا تری بے رخی کو بھلا پائے گی
وہ ملاقات جو چند پل ہو گئی


ان سے کوئی شکایت نہ کی عمر بھر
جانے کیوں اک ذرا بات کل ہو گئی


ان سے ترک تعلق ہوا سو ہوا
موت کی بات بالکل اٹل ہو گئی


ان کی نظریں اٹھیں میری نظریں اٹھیں
بات کی بات تھی بر محل ہو گئی


یہ بڑی مہربانی ہوئی آپ کی
سامنے جو بھی دقت تھی حل ہو گئی


آرزو ان سے ملنے کی منزلؔ جو تھی
ایک دن وہ ہماری اجل ہو گئی