بہار صبح عجب رنگ و بو میں گزری ہے

بہار صبح عجب رنگ و بو میں گزری ہے
کلی کلی یہ لگے ہے لہو میں گزری ہے


مرے شعور کے تاروں کو چھیڑنے والے
تمام عمر تری جستجو میں گزری ہے


ترے سوا نہ مجھے یاد آ سکا کوئی
تمام عمر مری تو ہی تو میں گزری ہے


وہ بد نصیب جسے کوئی آستاں نہ ملا
حیات اس کی غم کو بہ کو میں گزری ہے


مشاہدہ ہے مرا یہ کہ باغ عالم میں
ہر اک درخت کی شوق نمو میں گزری ہے


کسی بھی گل سے ترے جسم کی مہک مل جائے
چمن سے صبح اسی آرزو میں گزری ہے


مزا ملا ہے یہ کھیتی کی آرزو کر کے
کٹی ہے تیز دوپہری میں لو میں گزری ہے


عجیب ہے یہ زمانے کا گلستاں جس میں
ہر ایک پھول کی اپنی ہی بو میں گزری ہے


کسی کی تیغ نظر سے جو پیار تھا منزلؔ
تمام عمر نہاتے لہو میں گزری ہے