ملتے ہیں چھٹ جاتے ہیں
ملتے ہیں چھٹ جاتے ہیں
ساتھی پھر بھی بھاتے ہیں
دل میں کوئی درد نہ تھا
اب وہ دن یاد آتے ہیں
ہو جن کا احساس فقیر
جھولی وہ پھیلاتے ہیں
لوگ سبھی کی کمزوری
اوروں تک پہنچاتے ہیں
روکے ہاتھ نہیں رکتے
پھول ایسے مدھ ماتے ہیں
غم سے تو کیا گھبراتے
ہم تم سے گھبراتے ہیں
جن سے کچھ امید نہ ہو
وہ بھی کام آ جاتے ہیں
ہو جاتے ہیں سب ان کے
جن سے راحت پاتے ہیں
منزلؔ لوہا ٹھیری ہوں
کہئے کیا فرماتے ہیں