منظر شہاب کی غزل

    خوش تھا کہ اس کے پیار کا اقرار لے لیا

    خوش تھا کہ اس کے پیار کا اقرار لے لیا ایسا نہ ہو کہ جان کا آزار لے لیا اس کی دکاں میں کچھ تو الگ بات تھی ضرور ورنہ یہ کیوں کہ خواب خریدار لے لیا کم کم ہی کھولنا تھا معیشت کے بادباں کیوں ناخدا نے بار زیاں کار لے لیا شاید کہ باغباں کی بقا بھی اسی میں تھی شاخوں کے سر سے پھول کی دستار ...

    مزید پڑھیے

    باہر حصار درد سے آنا نہ تھا کبھی

    باہر حصار درد سے آنا نہ تھا کبھی جو درد اب ملا ہے وہ جانا نہ تھا کبھی اقرار واقعی سے مرا دل سہم گیا اپنا قصور آپ نے مانا نہ تھا کبھی الجھی ہوا چراغ سے تو جل گیا بدن مغرور سر کا ناز اٹھانا نہ تھا کبھی اب کے لہو کی رت میں جدا شاخ سے تھے پھول مقتل کا رنگ اتنا سہانا نہ تھا کبھی محفوظ ...

    مزید پڑھیے

    جیسے جیسے خود نوشت دوستاں پڑھتے گئے

    جیسے جیسے خود نوشت دوستاں پڑھتے گئے دشمنوں کے باب میں کچھ کچھ ورق جھوٹے لگے خوش یقیں ہوں میرے اندر کوئی ہے محو کلام میں فقط دو ہونٹ ہوں جو بھی کہے وہ ہی کہے کیا بھروسہ پتھروں میں ڈوب جائے آبشار سانس میں جھکڑ چلے کب جسم کا تودہ ڈھے ریگزار شرق میں اب جوئے خوں ہے تیز گام وہ ...

    مزید پڑھیے

    آنسوؤں کے دیے رات بھر

    آنسوؤں کے دیے رات بھر جگمگاتے رہے رات بھر قطرہ قطرہ ٹپکتا رہا دل میں نشتر چبھے رات بھر سانس ڈھلتی گئی درد میں درد کے زخم اگے رات بھر روح میں زہر گھلتا گیا جاں کے لالے پڑے رات بھر ریزہ ریزہ امیدیں تمام خواب بکھرا کئے رات بھر پیار کی آتشیں شاخ سے سبز پتے گرے رات بھر

    مزید پڑھیے

    باعث قرب جفا کار کا غصہ تو ہے

    باعث قرب جفا کار کا غصہ تو ہے دل کشیدہ ہی سہی گھور کے دیکھا تو ہے پو پھٹے یا نہ پھٹے خلوت دل میں لیکن ہاں نہیں اور نہیں ہاں کا دھندلکا تو ہے منقطع کر کے سبھی سلک تعلق اکثر میری دیوار انا کوئی گراتا تو ہے عمر کی شام ڈھلے پیکر زیبا اس کا پہلے جیسا تو نہیں دل میں وہ تنہا تو ہے با ...

    مزید پڑھیے

    آگ برسی تو بہت جل کے مرے تھے پتے

    آگ برسی تو بہت جل کے مرے تھے پتے لوگ کہتے ہیں کہ کثرت سے ہرے تھے پتے کچھ ہواؤں کی تراشوں نے ڈبو کر خوں میں جا بجا خوب سلیقے سے دھرے تھے پتے ریشے ریشے میں کہیں زہر نہ بھر دے شبنم ہم نشینوں سے کبھی یوں نہ ڈرے تھے پتے ظاہرا شیخ ضمیر اپنا جلا کر خوش تھی اس کے آنچل میں کروڑوں کے بھرے ...

    مزید پڑھیے

    بارشیں خون کی تیز ہیں تیز ہیں خون کی آندھیاں

    بارشیں خون کی تیز ہیں تیز ہیں خون کی آندھیاں چاک در چاک اڑنے لگیں خون میں زیست کی چھتریاں رات پٹرول کی آگ سے شہر میں یوں چراغاں ہوا کانپ کر بجھ گئیں دل کے روشن جھروکوں کی سب بتیاں بے اماں خلق کرفیو زدہ روز و شب کے اندھیرے میں گم اپنی گردن میں ڈالے ہوئے اپنے کتبات کی ...

    مزید پڑھیے

    ہوئی مدت کہ گھنے پیڑ سے جھانکا سورج

    ہوئی مدت کہ گھنے پیڑ سے جھانکا سورج میرے آنگن سے خفا اب بھی ہے بانکا سورج چاند تاروں پہ نگاہیں تھیں کہ ٹک جاتی تھیں سرخ آنچل میں حیا دار نے ٹانکا سورج جب کبھی چاند مری چھت پہ اتر آیا ہے پردۂ شب نے بڑے پیار سے ڈھانکا سورج سوئے جنگل کے اگر چند شجر جاگ گئے یہ ہوا ہے کہ ہواؤں نے ہے ...

    مزید پڑھیے

    وہ غم گسار بالآخر بلائے جاں نکلا

    وہ غم گسار بالآخر بلائے جاں نکلا جسے زمین سمجھتے تھے آسماں نکلا عظیم تر ہے محبت میں روح کا رشتہ مگر بدن کا تعلق بھی درمیاں نکلا سراغ قتل شہادت ثبوت سب گونگے لہو خموش تھا خنجر بھی بے زباں نکلا تمام راستے ماضی کے بند تھے پھر بھی ہر ایک موڑ سے یادوں کا کارواں نکلا سنی جو میری ...

    مزید پڑھیے

    باہر حصار درد سے آنا نہ تھا کبھی

    باہر حصار درد سے آنا نہ تھا کبھی جو درد اب ملا ہے وہ جانا نہ تھا کبھی اقرار واقعی سے مرا دل سہم گیا اپنا قصور آپ نے مانا نہ تھا کبھی الجھی ہوا چراغ سے تو جل گیا بدن مغرور سر کا ناز اٹھانا نہ تھا کبھی اب کے لہو کی رت میں جدا شاخ سے تھے پھول مقتل کا رنگ اتنا سہانا نہ تھا کبھی فطرت ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2