منظر شہاب کے تمام مواد

13 غزل (Ghazal)

    خوش تھا کہ اس کے پیار کا اقرار لے لیا

    خوش تھا کہ اس کے پیار کا اقرار لے لیا ایسا نہ ہو کہ جان کا آزار لے لیا اس کی دکاں میں کچھ تو الگ بات تھی ضرور ورنہ یہ کیوں کہ خواب خریدار لے لیا کم کم ہی کھولنا تھا معیشت کے بادباں کیوں ناخدا نے بار زیاں کار لے لیا شاید کہ باغباں کی بقا بھی اسی میں تھی شاخوں کے سر سے پھول کی دستار ...

    مزید پڑھیے

    باہر حصار درد سے آنا نہ تھا کبھی

    باہر حصار درد سے آنا نہ تھا کبھی جو درد اب ملا ہے وہ جانا نہ تھا کبھی اقرار واقعی سے مرا دل سہم گیا اپنا قصور آپ نے مانا نہ تھا کبھی الجھی ہوا چراغ سے تو جل گیا بدن مغرور سر کا ناز اٹھانا نہ تھا کبھی اب کے لہو کی رت میں جدا شاخ سے تھے پھول مقتل کا رنگ اتنا سہانا نہ تھا کبھی محفوظ ...

    مزید پڑھیے

    جیسے جیسے خود نوشت دوستاں پڑھتے گئے

    جیسے جیسے خود نوشت دوستاں پڑھتے گئے دشمنوں کے باب میں کچھ کچھ ورق جھوٹے لگے خوش یقیں ہوں میرے اندر کوئی ہے محو کلام میں فقط دو ہونٹ ہوں جو بھی کہے وہ ہی کہے کیا بھروسہ پتھروں میں ڈوب جائے آبشار سانس میں جھکڑ چلے کب جسم کا تودہ ڈھے ریگزار شرق میں اب جوئے خوں ہے تیز گام وہ ...

    مزید پڑھیے

    آنسوؤں کے دیے رات بھر

    آنسوؤں کے دیے رات بھر جگمگاتے رہے رات بھر قطرہ قطرہ ٹپکتا رہا دل میں نشتر چبھے رات بھر سانس ڈھلتی گئی درد میں درد کے زخم اگے رات بھر روح میں زہر گھلتا گیا جاں کے لالے پڑے رات بھر ریزہ ریزہ امیدیں تمام خواب بکھرا کئے رات بھر پیار کی آتشیں شاخ سے سبز پتے گرے رات بھر

    مزید پڑھیے

    باعث قرب جفا کار کا غصہ تو ہے

    باعث قرب جفا کار کا غصہ تو ہے دل کشیدہ ہی سہی گھور کے دیکھا تو ہے پو پھٹے یا نہ پھٹے خلوت دل میں لیکن ہاں نہیں اور نہیں ہاں کا دھندلکا تو ہے منقطع کر کے سبھی سلک تعلق اکثر میری دیوار انا کوئی گراتا تو ہے عمر کی شام ڈھلے پیکر زیبا اس کا پہلے جیسا تو نہیں دل میں وہ تنہا تو ہے با ...

    مزید پڑھیے

تمام