منظر شہاب کی غزل

    ہواؤں کا زور آزماتے رہے

    ہواؤں کا زور آزماتے رہے سدا ہم پتنگیں اڑاتے رہے جنہیں جان و دل میں بساتے رہے وہ رسماً تعلق نبھاتے رہے مرے بعد بچوں نے اتنا کیا مجھے چوکھٹے میں بٹھاتے رہے وہ دشمن کے خیمے میں تھے مطمئن عبث ہم لہو میں نہاتے رہے بچے تھے وہ پتھر کی تھیں مورتیں فضول آپ خنجر چلاتے رہے کہانی تھی ...

    مزید پڑھیے

    شعلوں سے لالہ زار ہے آتش کدہ ہے دل

    شعلوں سے لالہ زار ہے آتش کدہ ہے دل زخموں کے شب چراغ کا اک سلسلہ ہے دل اشکوں کے رنگ و نور سے آنکھیں دھلی دھلی سوز و فروغ کرب سے صد سوختہ ہے دل نامہ مرے وجود کا دو لفظ میں اسیر پہچان میری عشق ہے میرا پتہ ہے دل سہنا تمام وار مقدر اسی کا ہے آماجگاہ عشق میں گویا ذرا ہے دل انجان ...

    مزید پڑھیے

    پھر شعلۂ گل موج صبا چاہیے یارو

    پھر شعلۂ گل موج صبا چاہیے یارو گل نار گلستاں کی فضا چاہیے یارو پیراہن جاں چاک رہے تیز ہوا میں طوفان میں جینے کی ادا چاہئے یارو مطلوب ہو گر شاہد معنی کی تجلی الفاظ کی صد رنگ قبا چاہیے یارو شاداب نئی رت سے ہے گلزار ادب بھی پھولوں کو تر و تازہ ہوا چاہیے یارو جتنے بھی دریچے ہیں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2