ہوئی مدت کہ گھنے پیڑ سے جھانکا سورج

ہوئی مدت کہ گھنے پیڑ سے جھانکا سورج
میرے آنگن سے خفا اب بھی ہے بانکا سورج


چاند تاروں پہ نگاہیں تھیں کہ ٹک جاتی تھیں
سرخ آنچل میں حیا دار نے ٹانکا سورج


جب کبھی چاند مری چھت پہ اتر آیا ہے
پردۂ شب نے بڑے پیار سے ڈھانکا سورج


سوئے جنگل کے اگر چند شجر جاگ گئے
یہ ہوا ہے کہ ہواؤں نے ہے ہانکا سورج


وقت میں قید کیا نور لکھا دیو کہا
ہر زمانے نے کئی ڈھنگ سے آنکا سورج


تاز میں وسعت افلاک میں بکھرے نہ کہیں
بارہا جوہر ذرات کو پھانکا سورج