آنسوؤں کے دیے رات بھر

آنسوؤں کے دیے رات بھر
جگمگاتے رہے رات بھر


قطرہ قطرہ ٹپکتا رہا
دل میں نشتر چبھے رات بھر


سانس ڈھلتی گئی درد میں
درد کے زخم اگے رات بھر


روح میں زہر گھلتا گیا
جاں کے لالے پڑے رات بھر


ریزہ ریزہ امیدیں تمام
خواب بکھرا کئے رات بھر


پیار کی آتشیں شاخ سے
سبز پتے گرے رات بھر