خوش تھا کہ اس کے پیار کا اقرار لے لیا
خوش تھا کہ اس کے پیار کا اقرار لے لیا
ایسا نہ ہو کہ جان کا آزار لے لیا
اس کی دکاں میں کچھ تو الگ بات تھی ضرور
ورنہ یہ کیوں کہ خواب خریدار لے لیا
کم کم ہی کھولنا تھا معیشت کے بادباں
کیوں ناخدا نے بار زیاں کار لے لیا
شاید کہ باغباں کی بقا بھی اسی میں تھی
شاخوں کے سر سے پھول کی دستار لے لیا
آہن گروں نے ساز مشینوں کا چھین کر
دست ہنر سے نغمۂ سرشار لے لیا
اتنا کہا کہ پیار میں صحت بھی چاہئے
پھر ہنس کے میرے ہاتھ سے اخبار لے لیا
یوں لفظیات عشق کے پیکر بدل گئے
معنی کے لب سے شوخیٔ اظہار لے لیا
زخموں کے نورتن سے تھا گلزار قصر دل
ناداں نے شاہ فقر کا دربار لے لیا
مٹی ہمارے گاؤں کی کچی نہ تھی شہابؔ
ندی کے اک کٹاؤ نے گھر بار لے لیا