Mansoor Ejaz

منصور اعجاز

  • 1950

منصور اعجاز کی غزل

    کیا مقدر میں ہے خدا جانے

    کیا مقدر میں ہے خدا جانے نیند میں چل رہے ہیں دیوانے صنعتیں شہر میں اجاڑیں گی گاؤں تو کر دئے ہیں ویرانے میں نے سچ بولنے کی ٹھانی ہے کوئی آئے نہ مجھ کو سمجھانے میری آنکھوں میں یہ نمی کیسی کون رویا ہے میرے سرہانے ظرف اول ہے عشق میں منصورؔ انگلیاں کاٹ لیں زلیخا نے

    مزید پڑھیے

    میں بھی خاموش اجالوں کی ضیا ہوں جیسے

    میں بھی خاموش اجالوں کی ضیا ہوں جیسے اپنی دھرتی پہ خدا تیرا پتا ہوں جیسے اس کی آنکھوں میں قیامت کی حیا روشن ہے نیم خوابیدہ اسے سوچ رہا ہوں جیسے میرا مسکن نہ ٹھکانہ نہ کوئی راہ گزر میں کوئی سر پھری آوارہ ہوا ہوں جیسے میرا در چھوڑ کے جاتی ہی نہیں ہے کم بخت تیری رسوائی کو اک میں ...

    مزید پڑھیے

    ساحل پہ مرادوں کا سمندر نہیں آیا

    ساحل پہ مرادوں کا سمندر نہیں آیا وہ شہر میں ہو کر بھی مرے گھر نہیں آیا دروازے پہ دستک ہوئی زنجیر بھی کھنکی جھونکا تھا ہوا کا کوئی اندر نہیں آیا تو جب سے مجھے چھوڑ کے پردیس گیا ہے دنیا میں مری کوئی سکندر نہیں آیا میں شہر میں پھرتا ہوں لیے چاک گریباں لیکن وہ ستم گر وہ رفوگر نہیں ...

    مزید پڑھیے

    یوں ہی سوتے سے کبھی جاگ کے اٹھنے کا سبب

    یوں ہی سوتے سے کبھی جاگ کے اٹھنے کا سبب یاد تو ہوگا تمہیں دل کے دھڑکنے کا سبب دل کی راہوں سے خلاؤں کے سفر تک کی گھٹن اور کچھ سوچ کے آئینے کو تکنے کا سبب اس گزر گاہ سے ہرگز وہ گزرنے کا نہیں پھر اسی موڑ پہ تنہا ترے رکنے کا سبب الوداع کہنے جو آیا تھا ترا کیا تھا بتا اس سے مل کر یہ ...

    مزید پڑھیے

    سخت جاں اور بے حس ہوا ہوں

    سخت جاں اور بے حس ہوا ہوں غم کے احساس سے بچ گیا ہوں دوستوں سے بھی حیرت زدہ ہوں اجنبی دشمنوں میں رہا ہوں کوئی حد بھی تو ہو سوچنے کی سوچتا ہوں تو بس سوچتا ہوں میرے قدموں سے سر کو اٹھا لے میں ترے ظلم کی انتہا ہوں تو غزل ہے سراپا غزل میں آخری شعر کا قافیہ ہوں

    مزید پڑھیے

    چاند جب آسماں پہ چلتا ہے

    چاند جب آسماں پہ چلتا ہے میرے دل سے کوئی گزرتا ہے تھرتھرائے ہوئے لبوں سے ترے دیکھنا ہے کہ کیا نکلتا ہے کوئی صحرا نہیں سراب نہیں تیری آنکھوں میں کیا چمکتا ہے پھول کھلتے ہیں جب بھی گلشن میں تو بھی آئے گا ایسا لگتا ہے لوگ بیٹھے ہیں بند کمروں میں اور سڑکوں پہ غم بھٹکتا ہے چاند ...

    مزید پڑھیے

    ایسا ہوگا ویسا ہوگا

    ایسا ہوگا ویسا ہوگا کیا جانوں میں کیسا ہوگا میرے سامنے بیٹھ کے رو لے میرا غم بھی ہلکا ہوگا تو جو ہنسنا بھول گیا ہے تیرا دل بھی ٹوٹا ہوگا ہم دونوں میں رشتہ کیا ہے جگ میں اس کا چرچا ہوگا تو پردیسی تو کیا جانے میں نے کیا کیا سوچا ہوگا وہ ہے میں ہوں تنہائی ہے کون بھلا یوں تنہا ...

    مزید پڑھیے