سخت جاں اور بے حس ہوا ہوں
سخت جاں اور بے حس ہوا ہوں
غم کے احساس سے بچ گیا ہوں
دوستوں سے بھی حیرت زدہ ہوں
اجنبی دشمنوں میں رہا ہوں
کوئی حد بھی تو ہو سوچنے کی
سوچتا ہوں تو بس سوچتا ہوں
میرے قدموں سے سر کو اٹھا لے
میں ترے ظلم کی انتہا ہوں
تو غزل ہے سراپا غزل میں
آخری شعر کا قافیہ ہوں