چاند جب آسماں پہ چلتا ہے

چاند جب آسماں پہ چلتا ہے
میرے دل سے کوئی گزرتا ہے


تھرتھرائے ہوئے لبوں سے ترے
دیکھنا ہے کہ کیا نکلتا ہے


کوئی صحرا نہیں سراب نہیں
تیری آنکھوں میں کیا چمکتا ہے


پھول کھلتے ہیں جب بھی گلشن میں
تو بھی آئے گا ایسا لگتا ہے


لوگ بیٹھے ہیں بند کمروں میں
اور سڑکوں پہ غم بھٹکتا ہے


چاند راتوں میں درد جاگے تو
تنہا کمروں میں دم بھی گھٹتا ہے


دل میں جل کر جو بجھ گیا منصورؔ
ذہن میں وہ چراغ جلتا ہے