یوں ہی سوتے سے کبھی جاگ کے اٹھنے کا سبب

یوں ہی سوتے سے کبھی جاگ کے اٹھنے کا سبب
یاد تو ہوگا تمہیں دل کے دھڑکنے کا سبب


دل کی راہوں سے خلاؤں کے سفر تک کی گھٹن
اور کچھ سوچ کے آئینے کو تکنے کا سبب


اس گزر گاہ سے ہرگز وہ گزرنے کا نہیں
پھر اسی موڑ پہ تنہا ترے رکنے کا سبب


الوداع کہنے جو آیا تھا ترا کیا تھا بتا
اس سے مل کر یہ تیرے پھوٹ کے رونے کا سبب


کوئی چہرہ کوئی خوشبو نہ کہیں کوئی سراب
ایسی تنہائی سے منصورؔ الجھنے کا سبب