کیا مقدر میں ہے خدا جانے
کیا مقدر میں ہے خدا جانے
نیند میں چل رہے ہیں دیوانے
صنعتیں شہر میں اجاڑیں گی
گاؤں تو کر دئے ہیں ویرانے
میں نے سچ بولنے کی ٹھانی ہے
کوئی آئے نہ مجھ کو سمجھانے
میری آنکھوں میں یہ نمی کیسی
کون رویا ہے میرے سرہانے
ظرف اول ہے عشق میں منصورؔ
انگلیاں کاٹ لیں زلیخا نے