ایسا ہوگا ویسا ہوگا
ایسا ہوگا ویسا ہوگا
کیا جانوں میں کیسا ہوگا
میرے سامنے بیٹھ کے رو لے
میرا غم بھی ہلکا ہوگا
تو جو ہنسنا بھول گیا ہے
تیرا دل بھی ٹوٹا ہوگا
ہم دونوں میں رشتہ کیا ہے
جگ میں اس کا چرچا ہوگا
تو پردیسی تو کیا جانے
میں نے کیا کیا سوچا ہوگا
وہ ہے میں ہوں تنہائی ہے
کون بھلا یوں تنہا ہوگا