وہ لپیٹ کر نکلی تولیے میں بال اپنے
وہ لپیٹ کر نکلی تولیے میں بال اپنے بوند بوند بکھرے تھے ہر طرف خیال اپنے کوئلے کی ڈھیری پر بیٹھ کر کہا اس سے زندگی کے چولھے میں جل رہے ہیں سال اپنے دوستو کسی نے کیا کھولنے کی خواہش میں جان کے اٹیچی میں بھر دئے جمال اپنے پوچھتی ہو ہجراں کی کیفیت کدھر غم ہے مرتبان میں شاید بند ہیں ...