Mansoor Aafaque

منصور آفاق

منصور آفاق کی غزل

    وہ لپیٹ کر نکلی تولیے میں بال اپنے

    وہ لپیٹ کر نکلی تولیے میں بال اپنے بوند بوند بکھرے تھے ہر طرف خیال اپنے کوئلے کی ڈھیری پر بیٹھ کر کہا اس سے زندگی کے چولھے میں جل رہے ہیں سال اپنے دوستو کسی نے کیا کھولنے کی خواہش میں جان کے اٹیچی میں بھر دئے جمال اپنے پوچھتی ہو ہجراں کی کیفیت کدھر غم ہے مرتبان میں شاید بند ہیں ...

    مزید پڑھیے

    پتھر کے رت جگے مری پلکوں میں گاڑ کے

    پتھر کے رت جگے مری پلکوں میں گاڑ کے رکھ دیں ترے فراق نے آنکھیں اجاڑ کے اتنی طویل اپنی مسافت نہیں مگر مشکل مزاج ہوتے ہیں رستے پہاڑ کے آنکھوں سے خد و خال نکالے نہ جا سکے ہر چند پھینک دی تری تصویر پھاڑ کے یہ بھولپن نہیں ہے کہ سورج کے آس پاس رکھے گئے ہیں دائرے کانٹوں کی باڑ کے مٹی ...

    مزید پڑھیے

    ابھی ہے دھیان کہاں وصل کے فریضوں پر

    ابھی ہے دھیان کہاں وصل کے فریضوں پر ابھی وہ کاڑھتی پھرتی ہے دل قمیضوں پر قیام کرتا ہوں اکثر میں دل کے کمرے میں کہ جم نہ جائے کہیں گرد اس کی چیزوں پر یہی تو لوگ مسیحا ہیں زندگانی کے ہزار رحمتیں ہوں عشق کے مریضوں پر کسی انار کلی کے خیال میں اب تک غلام گردشیں ماتم کناں کنیزوں ...

    مزید پڑھیے

    منزل جاں خود بچھاتی جا رہی ہے راستہ

    منزل جاں خود بچھاتی جا رہی ہے راستہ جیپ جنگل میں بناتی جا رہی ہے راستہ ایک نا ممکن پہاڑی رفتہ رفتہ ہاتھ سے میرے پاؤں میں گراتی جا رہی ہے راستہ سوچتا ہوں میری ہستی کی یہ پتھریلی سڑک جنگلوں سے کیوں ملاتی جا رہی ہے راستہ ساتھ اس کے سال بھر سے چل رہا ہوں روڈ پر اپنے گھر کا کیوں ...

    مزید پڑھیے

    وہ شب و روز خیالوں میں تماشا نہ کرے

    وہ شب و روز خیالوں میں تماشا نہ کرے آ نہیں سکتا تو پھر یاد بھی آیا نہ کرے ایک امید کی کھڑکی سی کھلی رہتی ہے اپنے کمرے کا کوئی بلب بجھایا نہ کرے روز ای میل کرے سرخ امیج ہونٹوں کے میں کسی اور ستارے پہ ہوں سوچا نہ کرے حافظہ ایک امانت ہے کسی کی لیکن یاد کی سرد ہوا شام کو رویا نہ ...

    مزید پڑھیے

    کوئی آگ لمس کی پھینک دے مرے بند بند کے سامنے

    کوئی آگ لمس کی پھینک دے مرے بند بند کے سامنے چلے فلم کوئی وصال کی دل ہجر مند کے سامنے اے ہنر وری ترے اسم چپ یہ عمل رمل کے طلسم چپ یہ ہزار گن سے بھرے ہیں کیا کسی بھاگ وند کے سامنے کھلی کھڑکیوں کے فلیٹ سے ذرا جھانک شام کو روڈ پر ترے انتظار کی منزلیں ہیں مری کمند کے سامنے بڑے میخ ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 2 سے 2