Mansoor Aafaque

منصور آفاق

منصور آفاق کی غزل

    سوچ کا ثانیہ دم بھر کو گیا یار کے پاس

    سوچ کا ثانیہ دم بھر کو گیا یار کے پاس پاؤں بے ساختہ لے آئے مجھے کار کے پاس ایک پتھر ہے کہ بس سرخ ہوا جاتا ہے کوئی پہروں سے کھڑا ہے کسی دیوار کے پاس گھنٹیاں شور مچاتی ہیں مرے کانوں میں فون مردہ ہے مگر بستر بیدار کے پاس کس طرح برف بھری رات گزاری ہوگی میں بھی موجود نہ تھا یار طرح ...

    مزید پڑھیے

    چراغ ہو گیا بد نام کچھ زیادہ ہی

    چراغ ہو گیا بد نام کچھ زیادہ ہی کہ جل رہا تھا سر بام کچھ زیادہ ہی ترے بھلانے میں میرا قصور اتنا ہے کہ پڑ گئے تھے مجھے کام کچھ زیادہ ہی میں کتنے ہاتھ سے گزرا یہاں تک آتے ہوئے مجھے کیا گیا نیلام کچھ زیادہ ہی ملال تیری جدائی کا بے پنہ لیکن فسردہ ہے یہ مری شام کچھ زیادہ ہی تمام عمر ...

    مزید پڑھیے

    اسے بھی ربط رہائش تمام کرنا تھا

    اسے بھی ربط رہائش تمام کرنا تھا مجھے بھی اپنا کوئی انتظام کرنا تھا نگار خانے سے اس نے بھی رنگ لینے تھے مجھے بھی شام کا کچھ اہتمام کرنا تھا مجھے بھی کہنی تھی اک نظم اس کے لہجے پر اسے بھی عشق میں کچھ اپنا نام کرنا تھا بس ایک لنچ ہی ممکن تھا جلدی جلدی میں اسے بھی جانا تھا مجھ کو ...

    مزید پڑھیے

    جتنے موتی گرے آنکھ سے جتنا تیرا خسارا ہوا

    جتنے موتی گرے آنکھ سے جتنا تیرا خسارا ہوا دست بستہ تجھے کہہ رہے ہیں وہ سارا ہمارا ہوا آ گرا زندہ شمشان میں لکڑیوں کا دھواں دیکھ کر اک مسافر پرندہ کئی سرد راتوں کا مارا ہوا ہم نے دیکھا اسے بہتے سپنے کے عرشے پہ کچھ دیر تک پھر اچانک چہکتے سمندر کا خالی کنارا ہوا جا رہا ہے یونہی بس ...

    مزید پڑھیے

    اور اب تو میرے چہرے سے ابھر آتا ہے وہ

    اور اب تو میرے چہرے سے ابھر آتا ہے وہ آئنہ میں دیکھتا ہوں اور نظر آتا ہے وہ حال دل کہنے کو بارش کی ضرورت ہے مجھے اور میرے گھر ہوا کے دوش پر آتا ہے وہ رات کو دل سے کوئی آواز آتی ہے مجھے جسم کی دیوار سے کیسے گزر آتا ہے وہ وقت کھو جاتا ہے میری انجمن میں اس لیے اپنے بازو پر گھڑی کو ...

    مزید پڑھیے

    در کوئی جنت پندار کا وا کرتا ہوں

    در کوئی جنت پندار کا وا کرتا ہوں آئینہ دیکھ کے میں حمد و ثنا کرتا ہوں رات اور دن کے کناروں کے تعلق کی قسم وقت ملتے ہیں تو ملنے کی دعا کرتا ہوں وہ ترا اونچی حویلی کے قفس میں رہنا یاد آئے تو پرندوں کو رہا کرتا ہوں ایک لڑکی کے تعاقب میں کئی برسوں سے نت نئی ذات کے ہوٹل میں رہا کرتا ...

    مزید پڑھیے

    سرکا دیا نقاب کو کھڑکی نے خواب میں

    سرکا دیا نقاب کو کھڑکی نے خواب میں سورج دکھائی دے شب خانہ خراب میں تجھ ایسی نرم گرم کئی لڑکیوں کے ساتھ میں نے شب فراق ڈبو دی شراب میں آنکھیں خیال خواب جوانی یقین سانس کیا کیا نکل رہا ہے کسی کے حساب میں قیدی بنا لیا ہے کسی حور نے مجھے یوں ہی میں پھر رہا تھا دیار ثواب میں مایوس ...

    مزید پڑھیے

    کوئی چہرہ کوئی مہتاب دکھائی دیتا

    کوئی چہرہ کوئی مہتاب دکھائی دیتا نیند آتی تو کوئی خواب دکھائی دیتا خواہشیں خالی گھڑے سر پہ اٹھا لائی ہیں کوئی دریا کوئی تالاب دکھائی دیتا نسبت حسن مرا ٹاٹ کا ارزاں سا بدن تیرے پیوند سے کمخواب دکھائی دیتا ڈوبنے کو نہ سمندر نہ کوئی چشم سیہ آج تو جام میں گرداب دکھائی دیتا پھر ...

    مزید پڑھیے

    پیاسے ہونٹ کنارے پر رک جاتے ہیں

    پیاسے ہونٹ کنارے پر رک جاتے ہیں اچھا سرخ اشارے پر رک جاتے ہیں جب میں سطح آب پہ چلتا پھرتا ہوں دیکھنے لوگ کنارے پر رک جاتے ہیں میرے ہاتھ سے صرف نہیں گھڑیال گرا کتنے وقت خسارے پر رک جاتے ہیں ہم ایسوں کے کون مقابل آئے گا ہم طوفان کے دھارے پر رک جاتے ہیں پھرنے نکلتے ہیں مہتاب نگر ...

    مزید پڑھیے

    سرد ٹھٹھری ہوئی لپٹی ہوئی صرصر کی طرح

    سرد ٹھٹھری ہوئی لپٹی ہوئی صرصر کی طرح زندگی مجھ سے ملی پچھلے دسمبر کی طرح کس طرح دیکھنا ممکن تھا کسی اور طرف میں نے دیکھا ہے تجھے آخری منظر کی طرح ہاتھ رکھ لمس بھری تیز نظر کے آگے چیرتی جاتی ہے سینہ مرا خنجر کی طرح بارشیں اس کا لب و لہجہ پہن لیتی تھیں شور کرتی تھی وہ برسات میں ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2