منزل جاں خود بچھاتی جا رہی ہے راستہ

منزل جاں خود بچھاتی جا رہی ہے راستہ
جیپ جنگل میں بناتی جا رہی ہے راستہ


ایک نا ممکن پہاڑی رفتہ رفتہ ہاتھ سے
میرے پاؤں میں گراتی جا رہی ہے راستہ


سوچتا ہوں میری ہستی کی یہ پتھریلی سڑک
جنگلوں سے کیوں ملاتی جا رہی ہے راستہ


ساتھ اس کے سال بھر سے چل رہا ہوں روڈ پر
اپنے گھر کا کیوں بڑھاتی جا رہی ہے راستہ


پیچھے پیچھے پاؤں اٹھتے جا رہے ہیں عشق میں
آگے آگے وہ بتاتی جا رہی ہے راستہ


رہ بناتا جا رہا ہوں دشت میں منصورؔ میں
وقت کی آندھی اڑاتی جا رہی ہے راستہ