قضا نہیں ہونا تجھے
لوح کا راستہ، دھوپ کے شامیانوں سے ڈھانپا ہوا اجنبی اجنبی چاپ سنتا رہا۔۔۔ ساتھ چلتا رہا اور پھر ایک دن۔۔۔ دس محرم کی آنکھوں سے نکلا ہوا اک سنہری کنول یوں اچھالا افق کی شفق جھیل میں۔۔۔ شام کے وقت نے جیسے ابلیس سکہ کوئی پھینک دے رحم تاریخ کے سرخ کشکول میں آسماں رک گیا۔۔۔ رک گیا ...