Mansoor Aafaque

منصور آفاق

منصور آفاق کی نظم

    قضا نہیں ہونا تجھے

    لوح کا راستہ، دھوپ کے شامیانوں سے ڈھانپا ہوا اجنبی اجنبی چاپ سنتا رہا۔۔۔ ساتھ چلتا رہا اور پھر ایک دن۔۔۔ دس محرم کی آنکھوں سے نکلا ہوا اک سنہری کنول یوں اچھالا افق کی شفق جھیل میں۔۔۔ شام کے وقت نے جیسے ابلیس سکہ کوئی پھینک دے رحم تاریخ کے سرخ کشکول میں آسماں رک گیا۔۔۔ رک گیا ...

    مزید پڑھیے

    یقین کی غیر فانی ساعت

    شام کے آدھے بدن پر تھے شفق کے کچھ گراف دن چرانے پر تلا تھا رات کا تیرہ لحاف اور آنگن میں مرا ننھا سا صاحب بھاگتا پھرتا تھا جانے کیا پکڑنے کے لئے اپنی مٹھی کھول کر پھر بند کر لیتا تھا وہ میں نے پوچھا ''کیا پکڑتے پھر رہے ہو صحن میں'' بولا کرنوں کو پکڑتا ہوں ''ابھی کچھ دیر میں سورج ...

    مزید پڑھیے

    ڈپریشن

    خوف کے جزیرے میں۔۔ قید ہوں میں برسوں سے دور تک فصیلیں ہیں اور ان پہ لوہے کی اونچی اونچی باڑیں ہیں، نوک دار کیلیں ہیں ڈالتا کمندیں ہوں۔۔۔ جیل کے کناروں پر۔۔۔ خار دار تاروں پر سیٹیاں سی بجتی ہیں دیر تک سماعت میں پہرے دار آتے ہیں بیڑیاں سی سجتی ہیں پاؤں کو اٹھانا، بھی ہاتھ کو ہلانا ...

    مزید پڑھیے

    ٹوٹا ہوا افق

    میانوالی بھی اپنی رت بدلتا ہے مگر مرے دل کی زمینوں پر وہی موسم خزاں کا وہی بے شکل چہرہ آسماں کا وہی بے آب دریا داستاں کا وہی بے روح منظر ہیں وہی بے رنگ تصویریں وہی چشمے ،وہی ابلا ہوا پانی درختوں سے مسلسل بھاپ بن کر اٹھ رہا ہے پگھلتی جا رہی ہیں میری راتیں سوا نیزے پہ سورج ہے مگر شب ...

    مزید پڑھیے