وہ لپیٹ کر نکلی تولیے میں بال اپنے

وہ لپیٹ کر نکلی تولیے میں بال اپنے
بوند بوند بکھرے تھے ہر طرف خیال اپنے


کوئلے کی ڈھیری پر بیٹھ کر کہا اس سے
زندگی کے چولھے میں جل رہے ہیں سال اپنے


دوستو کسی نے کیا کھولنے کی خواہش میں
جان کے اٹیچی میں بھر دئے جمال اپنے


پوچھتی ہو ہجراں کی کیفیت کدھر غم ہے
مرتبان میں شاید بند ہیں ملال اپنے


کوئی آگ کا بوسہ ہے کہیں پہ خوابوں میں
ہم نے اپنے ماتھے پر لکھ دئے سوال اپنے


چاہتے تھے سورج کی دھوپ دیکھنا لیکن
اس نے اوڑھ رکھی تھی چاروں اور شال اپنے


قتل تو ڈرامے کا ایکٹ تھا کوئی منصورؔ
کس لیے لہو سے ہیں دونوں ہاتھ لال اپنے