Mansoor Aafaque

منصور آفاق

منصور آفاق کے تمام مواد

16 غزل (Ghazal)

    سوچ کا ثانیہ دم بھر کو گیا یار کے پاس

    سوچ کا ثانیہ دم بھر کو گیا یار کے پاس پاؤں بے ساختہ لے آئے مجھے کار کے پاس ایک پتھر ہے کہ بس سرخ ہوا جاتا ہے کوئی پہروں سے کھڑا ہے کسی دیوار کے پاس گھنٹیاں شور مچاتی ہیں مرے کانوں میں فون مردہ ہے مگر بستر بیدار کے پاس کس طرح برف بھری رات گزاری ہوگی میں بھی موجود نہ تھا یار طرح ...

    مزید پڑھیے

    چراغ ہو گیا بد نام کچھ زیادہ ہی

    چراغ ہو گیا بد نام کچھ زیادہ ہی کہ جل رہا تھا سر بام کچھ زیادہ ہی ترے بھلانے میں میرا قصور اتنا ہے کہ پڑ گئے تھے مجھے کام کچھ زیادہ ہی میں کتنے ہاتھ سے گزرا یہاں تک آتے ہوئے مجھے کیا گیا نیلام کچھ زیادہ ہی ملال تیری جدائی کا بے پنہ لیکن فسردہ ہے یہ مری شام کچھ زیادہ ہی تمام عمر ...

    مزید پڑھیے

    اسے بھی ربط رہائش تمام کرنا تھا

    اسے بھی ربط رہائش تمام کرنا تھا مجھے بھی اپنا کوئی انتظام کرنا تھا نگار خانے سے اس نے بھی رنگ لینے تھے مجھے بھی شام کا کچھ اہتمام کرنا تھا مجھے بھی کہنی تھی اک نظم اس کے لہجے پر اسے بھی عشق میں کچھ اپنا نام کرنا تھا بس ایک لنچ ہی ممکن تھا جلدی جلدی میں اسے بھی جانا تھا مجھ کو ...

    مزید پڑھیے

    جتنے موتی گرے آنکھ سے جتنا تیرا خسارا ہوا

    جتنے موتی گرے آنکھ سے جتنا تیرا خسارا ہوا دست بستہ تجھے کہہ رہے ہیں وہ سارا ہمارا ہوا آ گرا زندہ شمشان میں لکڑیوں کا دھواں دیکھ کر اک مسافر پرندہ کئی سرد راتوں کا مارا ہوا ہم نے دیکھا اسے بہتے سپنے کے عرشے پہ کچھ دیر تک پھر اچانک چہکتے سمندر کا خالی کنارا ہوا جا رہا ہے یونہی بس ...

    مزید پڑھیے

    اور اب تو میرے چہرے سے ابھر آتا ہے وہ

    اور اب تو میرے چہرے سے ابھر آتا ہے وہ آئنہ میں دیکھتا ہوں اور نظر آتا ہے وہ حال دل کہنے کو بارش کی ضرورت ہے مجھے اور میرے گھر ہوا کے دوش پر آتا ہے وہ رات کو دل سے کوئی آواز آتی ہے مجھے جسم کی دیوار سے کیسے گزر آتا ہے وہ وقت کھو جاتا ہے میری انجمن میں اس لیے اپنے بازو پر گھڑی کو ...

    مزید پڑھیے

تمام

4 نظم (Nazm)

    قضا نہیں ہونا تجھے

    لوح کا راستہ، دھوپ کے شامیانوں سے ڈھانپا ہوا اجنبی اجنبی چاپ سنتا رہا۔۔۔ ساتھ چلتا رہا اور پھر ایک دن۔۔۔ دس محرم کی آنکھوں سے نکلا ہوا اک سنہری کنول یوں اچھالا افق کی شفق جھیل میں۔۔۔ شام کے وقت نے جیسے ابلیس سکہ کوئی پھینک دے رحم تاریخ کے سرخ کشکول میں آسماں رک گیا۔۔۔ رک گیا ...

    مزید پڑھیے

    یقین کی غیر فانی ساعت

    شام کے آدھے بدن پر تھے شفق کے کچھ گراف دن چرانے پر تلا تھا رات کا تیرہ لحاف اور آنگن میں مرا ننھا سا صاحب بھاگتا پھرتا تھا جانے کیا پکڑنے کے لئے اپنی مٹھی کھول کر پھر بند کر لیتا تھا وہ میں نے پوچھا ''کیا پکڑتے پھر رہے ہو صحن میں'' بولا کرنوں کو پکڑتا ہوں ''ابھی کچھ دیر میں سورج ...

    مزید پڑھیے

    ڈپریشن

    خوف کے جزیرے میں۔۔ قید ہوں میں برسوں سے دور تک فصیلیں ہیں اور ان پہ لوہے کی اونچی اونچی باڑیں ہیں، نوک دار کیلیں ہیں ڈالتا کمندیں ہوں۔۔۔ جیل کے کناروں پر۔۔۔ خار دار تاروں پر سیٹیاں سی بجتی ہیں دیر تک سماعت میں پہرے دار آتے ہیں بیڑیاں سی سجتی ہیں پاؤں کو اٹھانا، بھی ہاتھ کو ہلانا ...

    مزید پڑھیے

    ٹوٹا ہوا افق

    میانوالی بھی اپنی رت بدلتا ہے مگر مرے دل کی زمینوں پر وہی موسم خزاں کا وہی بے شکل چہرہ آسماں کا وہی بے آب دریا داستاں کا وہی بے روح منظر ہیں وہی بے رنگ تصویریں وہی چشمے ،وہی ابلا ہوا پانی درختوں سے مسلسل بھاپ بن کر اٹھ رہا ہے پگھلتی جا رہی ہیں میری راتیں سوا نیزے پہ سورج ہے مگر شب ...

    مزید پڑھیے