اور اب تو میرے چہرے سے ابھر آتا ہے وہ

اور اب تو میرے چہرے سے ابھر آتا ہے وہ
آئنہ میں دیکھتا ہوں اور نظر آتا ہے وہ


حال دل کہنے کو بارش کی ضرورت ہے مجھے
اور میرے گھر ہوا کے دوش پر آتا ہے وہ


رات کو دل سے کوئی آواز آتی ہے مجھے
جسم کی دیوار سے کیسے گزر آتا ہے وہ


وقت کھو جاتا ہے میری انجمن میں اس لیے
اپنے بازو پر گھڑی کو باندھ کر آتا ہے وہ


آخری زینے تلک کوئی خبر ہوتی نہیں
دل کے تہہ خانے میں چپکے سے اتر آتا ہے وہ


میں ہوا کی گفتگو لکھتا ہوں برگ شام پر
جو کسی کو بھی نہیں آتا ہنر آتا ہے وہ


سر بریدوں کو تنک کر رات سورج نے کہا
اور جب شانوں پہ رکھ کر اپنا سر آتا ہے وہ


وہ نکلتا ہی نہیں منصورؔ تیری ذات سے
ذکر آئے تو سہی آنکھوں میں در آتا ہے وہ