پیاسے ہونٹ کنارے پر رک جاتے ہیں
پیاسے ہونٹ کنارے پر رک جاتے ہیں
اچھا سرخ اشارے پر رک جاتے ہیں
جب میں سطح آب پہ چلتا پھرتا ہوں
دیکھنے لوگ کنارے پر رک جاتے ہیں
میرے ہاتھ سے صرف نہیں گھڑیال گرا
کتنے وقت خسارے پر رک جاتے ہیں
ہم ایسوں کے کون مقابل آئے گا
ہم طوفان کے دھارے پر رک جاتے ہیں
پھرنے نکلتے ہیں مہتاب نگر میں ہم
لیکن ایک ستارے پر رک جاتے ہیں
اڑتے اڑتے گر پڑتے ہیں آگ کے بیچ
شام کے وقت ہمارے پر رک جاتے ہیں
گر تو جاتا ہے منصور آفاقؔ کہیں
اک بے نام سہارے پر رک جاتے ہیں