کوئی چہرہ کوئی مہتاب دکھائی دیتا
کوئی چہرہ کوئی مہتاب دکھائی دیتا
نیند آتی تو کوئی خواب دکھائی دیتا
خواہشیں خالی گھڑے سر پہ اٹھا لائی ہیں
کوئی دریا کوئی تالاب دکھائی دیتا
نسبت حسن مرا ٹاٹ کا ارزاں سا بدن
تیرے پیوند سے کمخواب دکھائی دیتا
ڈوبنے کو نہ سمندر نہ کوئی چشم سیہ
آج تو جام میں گرداب دکھائی دیتا
پھر مرے پاؤں تلے طور کی مٹی ہوتی
پھر مجھے جادۂ اسباب دکھائی دیتا
اس سفیدی پھری قبروں کے نگر میں منصور
کوئی تو زندہ و شاداب دکھائی دیتا